پڑھ پڑھ علم فاضل ہویا اے کدی اپڑے آپ نوں پڑھیا ای نئی بلحھے شاہ
بلھے شاہ کا فکر انگیز کلام
پڑھ پڑھ علم فاضل ہویا اے
کدی اپڑے آپ نوں پڑھیا ای نئی
جاجا وڑدا مسجد مندر اندر
کدی من اپڑے وڑیا ای نئی
ایویں روز شیطان نال لڑدا
کدی نفس اپڑے نال لڑیا ای نئی
بلھے شاہ آسمانی اڈدیاں پھڑدا اے
جیہڑا گھر بیٹھا انوں پھڑدا ای نئی
مصنف کا نوٹ
اس مضمون میں پیش کی گئی تشریح کسی مخصوص آرٹیکل، ویب سائٹ یا پہلے سے موجود تشریح سے نقل نہیں کی گئی، بلکہ یہ میرے اپنے فکری اور ذاتی زاویۂ نظر کی عکاسی ہے۔ بلھے شاہ کے اس کلام کو پڑھتے ہوئے میں نے ہر شعر کے مفہوم کو اپنی سمجھ، مشاہدات اور زندگی کے تجربات کی روشنی میں سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ممکن ہے کہ اس کلام کی دوسری تشریحات بھی موجود ہوں اور دوسرے قارئین اسے مختلف انداز سے سمجھتے ہوں، کیونکہ شاعری کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ ایک ہی شعر ہر انسان کے ذہن میں مختلف خیالات اور احساسات پیدا کر سکتا ہے۔
اس مضمون میں بیان کیے گئے خیالات کسی حتمی یا واحد تشریح کا دعویٰ نہیں کرتے، بلکہ یہ صرف اس عظیم کلام کو میرے اپنے اندازِ فکر سے سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ بلھے شاہ کے کلام کو صرف ماضی کے صوفیانہ ماحول تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے آج کے انسان، اس کی زندگی، اس کی مصروفیات، اس کی خواہشات اور اس کے مسائل کے ساتھ بھی جوڑ کر دیکھا جائے۔
مضمون کی ترتیب اور زبان کو بہتر بنانے کے لیے تحریری معاونت سے مدد لی گئی ہے، تاہم اس تشریح کا بنیادی خیال، فکری سمت، مثالیں اور نقطۂ نظر میرے اپنے ہیں۔
بلھے شاہ کا کلام اور انسان کی اپنی ذات کی تلاش
بلھے شاہ برصغیر کے عظیم صوفی شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بظاہر عام اور سادہ الفاظ میں انسان کے سامنے ایسے سوالات رکھ دیتے ہیں جن کے جواب تلاش کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ان کی شاعری صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسان کو اپنے اندر جھانکنے، اپنی حقیقت پہچاننے اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔
زیرِ نظر کلام کے صرف چند اشعار ہیں، لیکن ان کے اندر انسان کی پوری زندگی کا ایک عجیب سا نقشہ موجود ہے۔ پہلے شعر میں علم کے باوجود خود کو نہ پہچاننے کی بات کی گئی ہے۔ دوسرے شعر میں انسان کو اپنے رب کی تلاش میں باہر نکلنے کے بجائے اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دی گئی ہے۔ تیسرے شعر میں انسان کو شیطان پر الزام لگانے کے بجائے اپنے نفس سے لڑنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے، جبکہ آخری شعر میں انسان کی اس عادت پر غور کرنے کا موقع دیا گیا ہے کہ وہ دور دور کے راز جاننے کے لیے تو پوری دنیا چھان مارتا ہے، لیکن اپنے قریب موجود حقیقت کو پہچاننے کی کوشش نہیں کرتا۔
اگر ان چاروں اشعار کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا جائے تو ہر شعر اپنی جگہ ایک مکمل پیغام رکھتا ہے، لیکن جب انہیں ایک ساتھ پڑھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بلھے شاہ انسان کو ایک فکری سفر پر لے جا رہے ہوں۔ یہ سفر باہر سے اندر کی طرف ہے۔ دنیا سے انسان کی ذات کی طرف ہے۔ معلومات سے معرفت کی طرف ہے۔ شیطان کو الزام دینے سے اپنی ذمہ داری قبول کرنے کی طرف ہے۔
پہلا شعر: بہت علم حاصل کیا، مگر خود کو نہیں پڑھا
پڑھ پڑھ علم فاضل ہویا اے
کدی اپڑے آپ نوں پڑھیا ای نئی
میرے نزدیک اس شعر میں بلھے شاہ انسان کو نہایت گہری بات سمجھا رہے ہیں۔ شاعر انسان سے کہتے ہیں کہ اے انسان! تو نے علم حاصل کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ تو نے پڑھ پڑھ کر اپنے آپ کو عالم، فاضل، دانشور اور عقل مند بنانے کی کوشش کی۔ تو نے کتابوں پر کتابیں پڑھیں، مختلف علوم حاصل کیے، دنیا کو سمجھنے کی کوشش کی اور زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے بے شمار چیزیں سیکھیں، لیکن افسوس کہ تو نے کبھی اپنے آپ کو پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
یہاں "اپنے آپ کو پڑھنے" سے مراد صرف اپنا نام، اپنی پہچان یا اپنی ظاهری شخصیت کو جاننا نہیں ہے۔ اصل مطلب یہ ہے کہ انسان نے کبھی سنجیدگی سے اپنے وجود پر غور نہیں کیا۔ اس نے کبھی خود سے یہ سوال نہیں کیا کہ میں کون ہوں؟ مجھے اس دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میرے اندر کون سی خوبیاں اور کون سی خامیاں موجود ہیں؟ میں جس علم کو حاصل کر رہا ہوں، کیا وہ میری زندگی کو بہتر بنا رہا ہے یا صرف میری معلومات میں اضافہ کر رہا ہے؟
انسان علم کا حریص ضرور رہا ہے۔ اس نے زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے بے شمار چیزیں سیکھیں۔ اس نے تجارت کے طریقے سیکھے، سیاست کو سمجھا، سائنس میں ترقی کی، دنیاوی کامیابی کے اصول دریافت کیے اور دولت کمانے کے ہزاروں راستے تلاش کیے۔ لیکن بعض اوقات وہ یہ بھول گیا کہ علم حاصل کرنے کا مقصد صرف زیادہ پیسہ کمانا یا دوسروں پر برتری حاصل کرنا نہیں ہوتا۔
انسان نے دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ سیکھ لیا، لیکن کبھی کبھی اس نے یہ نہیں سوچا کہ جس کامیابی کے پیچھے وہ بھاگ رہا ہے، آخر اس کا مقصد کیا ہے۔ اس نے دولت کمانے کے طریقے سیکھے، لیکن شاید دولت کے صحیح استعمال کا علم نہ سیکھا۔ اس نے لوگوں کو متاثر کرنے کے طریقے سیکھے، لیکن اچھا انسان بننے کی کوشش نہ کی۔ اس نے ترقی کے لیے علم حاصل کیا، لیکن اپنی روح اور کردار کی ترقی کو نظر انداز کر دیا۔
علم نافع اور علم کا اصل مقصد
علم یقیناً انسان کے لیے بہت بڑی نعمت ہے، لیکن میرے خیال میں بلھے شاہ کے اس شعر میں اصل سوال علم حاصل کرنے کے خلاف نہیں بلکہ علم کے مقصد اور اس کے استعمال کے بارے میں ہے۔
اگر انسان نے کوئی علم حاصل کیا لیکن اس علم سے اس کی زندگی، اس کا کردار اور اس کے رویے بہتر نہیں ہوئے تو اسے رک کر سوچنا چاہیے۔ اگر کسی نے اخلاقیات کی ہزار کتابیں پڑھ لیں لیکن وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا تو اس کے علم کا مقصد کیا رہ گیا؟ اگر کسی شخص نے انصاف پر بہت گفتگو کی لیکن خود کسی کمزور انسان کے ساتھ انصاف نہیں کیا تو اس کے علم کی حقیقت کیا ہے؟
یہاں انسان کو اپنے علم اور عمل کے درمیان موجود فاصلے کو دیکھنا چاہیے۔
ہماری زندگی میں بہت سے لوگ ایسے ملتے ہیں جو دوسروں کو نصیحت کرنے میں بہت اچھے ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں کو زندگی کے اصول بتاتے ہیں، کامیابی کے راز سمجھاتے ہیں اور اخلاقیات کی بات کرتے ہیں، لیکن جب ان کی اپنی زندگی کو دیکھا جائے تو بعض اوقات ان کے الفاظ اور اعمال میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔
میرے خیال میں یہی وہ مقام ہے جہاں بلھے شاہ کہتے ہیں کہ تم نے دوسروں کی کتابیں تو پڑھ لیں، لیکن اپنے آپ کو نہیں پڑھا۔
اگر تم نے خود کو پڑھا ہوتا تو شاید تمہیں معلوم ہو جاتا کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور کیا کر رہے ہو، ان دونوں میں کتنا فرق ہے۔
چراغ تلے اندھیرا: علم دوسروں کے لیے، مگر اپنی زندگی میں نہیں
اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے میرے ذہن میں ایک محاورہ آتا ہے: چراغ تلے اندھیرا۔
بچے فرض کریں ایک استاد ہے۔ وہ دوسروں کے بچوں کو تعلیم دیتا ہے۔ وہ ہر روز انہیں علم، اخلاق اور زندگی گزارنے کے اصول سکھاتا ہے۔ وہ خود بھی مزید علم حاصل کرتا رہتا ہے۔ لوگ اسے ایک بہترین استاد سمجھتے ہیں اور اس کی تعلیم سے بے شمار فائدہ اٹھاتے ہیں۔
لیکن اگر اس استاد کے اپنے بچے تربیت سے محروم ہوں، وہ اپنے بچوں کو وقت نہ دیتا ہو، اس کے بچے غلط راستوں پر جا رہے ہوں اور وہ صرف دوسروں کے بچوں کو سنوارنے میں مصروف ہو تو ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے۔ اس کا علم اس کے اپنے گھر کے لیے کس کام آیا؟
یہ مثال کسی استاد کی توہین نہیں بلکہ ایک اصول سمجھانے کے لیے ہے۔ انسان بعض اوقات دنیا کو سنوارنے کے لیے بہت کچھ کرتا ہے، لیکن اپنی ذات اور اپنے قریب ترین لوگوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
اسی طرح ایک عالم یا مقرر کو دیکھیں۔ وہ لوگوں کے سامنے لمبی لمبی تقریریں کرتا ہے۔ وہ اخلاق، صبر، محبت، سچائی اور انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ ہزاروں لوگ اس کی باتیں سنتے ہیں اور ممکن ہے کہ بہت سے لوگ اس سے متاثر بھی ہوں، لیکن اگر اس کے اپنے گھر کا ماحول خراب ہو، اگر وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اچھا رویہ نہ رکھتا ہو، اگر اس کے اپنے الفاظ اور اس کے کردار میں فرق ہو تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ علم صرف زبان پر ہے یا زندگی میں بھی موجود ہے؟
میرے خیال میں بلھے شاہ کا شعر ہمیں اسی مقام پر روک کر اپنے آپ سے سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے:
- تم نے علم حاصل کر لیا، لیکن کیا تم نے اس علم کو اپنے اوپر بھی نافذ کیا؟
- تم نے دوسروں کو روشنی دی، لیکن کیا تم نے اپنے اندر موجود اندھیرے کو بھی دیکھا؟
علم حاصل کرنا اور عملی نمونہ بننا
انسان کی زندگی میں صرف علم حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ اس علم کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا بھی ضروری ہے۔
یہ بات اسلامی تعلیمات میں بھی نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف لوگوں کو الفاظ کے ذریعے نصیحت نہیں کی بلکہ اپنی زندگی کے ذریعے عملی نمونہ پیش کیا۔ لوگوں نے صرف باتیں نہیں سنیں بلکہ ایک کردار دیکھا۔ سچائی، صبر، رحم، عدل اور اچھے اخلاق کو ایک عملی شکل میں دیکھا۔
یہی وجہ ہے کہ علم اور کردار کا تعلق بہت گہرا ہے۔ اگر انسان دوسروں کو سچ بولنے کی تلقین کرے لیکن خود جھوٹ بولے تو اس کے الفاظ کی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔ اگر وہ صبر کی نصیحت کرے لیکن خود معمولی بات پر غصے میں آ جائے تو اس کا علم اس کے کردار میں نظر نہیں آتا۔
اگر وہ دوسروں کو اچھا انسان بننے کی دعوت دے لیکن خود اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے تو اسے سب سے پہلے خود کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ میرے نزدیک بلھے شاہ کے پہلے شعر کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو عملی نمونہ بنانا بھی ضروری ہے۔
انسان کو ہر روز یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ میں نے آج کیا سیکھا؟ بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ میں نے آج جو سیکھا، اس میں سے اپنی زندگی میں کیا اپنایا؟
دوسرا شعر: انسان رب کو باہر تلاش کرتا رہا، اپنے اندر نہیں جھانکا
جاجا وڑدا مسجد مندر اندر
کدی من اپڑے وڑیا ای نئی
میرے نزدیک اس شعر میں بلھے شاہ انسان کی ایک بہت بڑی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ انسان ہمیشہ اپنے رب کو تلاش کرتا رہا ہے۔ وہ قربِ الٰہی حاصل کرنا چاہتا ہے، سکون چاہتا ہے، حقیقت جاننا چاہتا ہے اور اپنے خالق کے قریب ہونا چاہتا ہے۔
اس تلاش میں وہ مختلف جگہوں پر جاتا ہے؛ کبھی مسجد میں، کبھی کسی اور عبادت گاہ میں، کبھی کسی بزرگ کے پاس، اور کبھی کسی مقدس مقام پر۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید کسی خاص جگہ پر اسے وہ سکون اور قرب حاصل ہو جائے گا جس کی وہ تلاش کر رہا ہے۔
لیکن بلھے شاہ یہاں انسان سے ایک سوال کرتے ہیں کہ تم باہر تو بہت گئے، لیکن کیا کبھی اپنے من کے اندر بھی گئے؟ یہ شعر عبادت گاہوں کی اہمیت کو کم نہیں کرتا بلکہ انسان کو اس کی اپنی اندرونی حالت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انسان جسم کے ساتھ عبادت گاہ میں موجود ہو سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس کا دل بھی اسی طرح حاضر ہو۔ اگر انسان کا دل دنیاوی خواہشات، حسد، تکبر اور نفرت میں الجھا ہوا ہے تو صرف جگہ تبدیل کرنے سے اس کی اندرونی کیفیت تبدیل نہیں ہو جاتی۔
مسجد سے مسجد اور شہر سے شہر کی تلاش
فرض کریں ایک انسان اپنے علاقے کی مسجد میں عبادت کرتا ہے، لیکن اسے سکون محسوس نہیں ہوتا۔ وہ سوچتا ہے شاید یہاں میرا دل نہیں لگتا، اس لیے کسی دوسری مسجد میں چلا جاتا ہوں۔ وہ دوسری جگہ جاتا ہے، پھر بھی سکون نہیں ملتا۔ وہ سوچتا ہے شاید کسی اور علاقے میں جائے۔ وہ سفر کرتا ہے، مگر اس کے دل کی کیفیت وہی رہتی ہے۔
میرے خیال میں بلھے شاہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بعض اوقات مسئلہ جگہ کا نہیں ہوتا، مسئلہ انسان کے اندر ہوتا ہے۔ انسان ایک شہر سے دوسرے شہر جا سکتا ہے، ایک مسجد سے دوسری مسجد جا سکتا ہے، ایک ملک سے دوسرے ملک جا سکتا ہے، لیکن وہ اپنا دل اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے۔
وہ اپنی خواہشات اپنے ساتھ لے جاتا ہے، اپنی پریشانیاں اور اپنی کمزوریاں اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اگر انسان نے اپنے اندر جھانکنے کی کوشش نہیں کی تو ممکن ہے وہ پوری دنیا کا سفر کر لے، مگر جس سکون کی تلاش ہے وہ اسے پھر بھی نہ ملے۔
اپنے وجود پر غور کرنا بھی ضروری ہے
انسان اگر صرف ایک لمحے کے لیے اپنے وجود پر غور کرے تو اسے حیرت ہونے لگے۔ یہ سانسیں کیسے چل رہی ہیں؟ دل مسلسل کیسے دھڑک رہا ہے؟ انسان کا جسم اتنے پیچیدہ نظام کے ساتھ کیسے کام کر رہا ہے؟ دماغ کس طرح بے شمار معلومات کو سمجھتا اور محفوظ کرتا ہے؟
انسان اپنے جسم کے ہر حصے کو شعوری طور پر حکم نہیں دیتا، لیکن زندگی کا ایک حیرت انگیز نظام مسلسل کام کر رہا ہوتا ہے۔ کیا انسان اپنے دل کو ہر لمحے حکم دیتا ہے کہ دھڑکتے رہو؟ کیا وہ ہر سانس کو الگ سے چلانے کا حکم دیتا ہے؟ کیا وہ اپنے جسم کے اندر موجود بے شمار نظاموں کو خود چلاتا ہے؟ نہیں۔ اس کے باوجود یہ نظام چل رہا ہے۔
میرے خیال میں بلھے شاہ کے شعر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسان اپنے رب کو صرف باہر کی دنیا میں تلاش نہ کرے بلکہ اپنے وجود پر بھی غور کرے۔ اگر انسان خود پر غور کرے تو اسے اپنے وجود میں بھی حیرت کے بے شمار پہلو نظر آئیں گے۔
رب کی تلاش اور دل کی کیفیت
انسان کبھی کبھی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ رب کو پانے کے لیے صرف دور دراز کا سفر ضروری ہے، لیکن اگر انسان کے دل میں یقین، محبت اور سچی طلب موجود نہ ہو تو صرف جسمانی سفر کافی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو کسی مخلوق کی طرح کسی ایک مخصوص جگہ میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن صوفیانہ شاعری میں دل اور باطن کو انسان کی روحانی کیفیت کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اسی لیے "اپنے من کے اندر جانا" میرے نزدیک اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہے:
- کیا میں واقعی اپنے رب کو تلاش کر رہا ہوں؟
- کیا میں صرف رسم ادا کر رہا ہوں؟
- کیا میری زبان عبادت کر رہی ہے لیکن میرا دل کہیں اور ہے؟
- کیا میں نے کبھی اپنی نیت اور اپنے کردار کو دیکھا؟
اگر انسان کا دل اللہ کی یاد اور یقین سے خالی ہو تو صرف باہر کی تلاش مکمل سکون نہیں دے سکتی۔ اسی لیے قرآن میں انسان کو اپنی ذات اور کائنات میں موجود نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ میرے خیال میں بلھے شاہ کا پیغام یہی ہے کہ باہر دیکھنے کے ساتھ ساتھ ایک مرتبہ اپنے اندر بھی دیکھو۔
تیسرا شعر: شیطان سے لڑتے رہے، مگر اپنے نفس سے نہیں لڑے
ایویں روز شیطان نال لڑدا
کدی نفس اپڑے نال لڑیا ای نئی
میرے نزدیک یہ پورے کلام کا سب سے زیادہ طاقتور اور چونکا دینے والا شعر ہے۔ انسان جب بھی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اکثر اپنی غلطی کی ذمہ داری کسی دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے شیطان نے بہکا دیا، شیطان نے مجھے غلط راستے پر ڈال دیا، اور شیطان کی وجہ سے مجھ سے گناہ ہو گیا۔
انسان ہر غلطی کا ذمہ دار شیطان کو ٹھہرا کر بعض اوقات خود کو بری الذمہ سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن بلھے شاہ سوال کرتے ہیں کہ تم شیطان سے تو روز لڑتے ہو، مگر کیا کبھی اپنے نفس سے بھی لڑے ہو؟ یہاں شاعر انسان کو اپنی ذمہ داری قبول کرنے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
انسان کے اندر بھی بہت سی کمزوریاں موجود ہیں؛ جیسے خواہش، لالچ، غصہ، انا، تکبر، حسد، شہرت کی خواہش اور دولت کی حرص۔ یہ سب چیزیں انسان کو غلط راستے کی طرف لے جا سکتی ہیں اگر انسان ان پر قابو پانے کی کوشش نہ کرے۔
ابلیس کو کس چیز نے تباہ کیا؟
میرے خیال میں اس شعر کو سمجھنے کے لیے ابلیس کے واقعے میں موجود ایک بنیادی سبق پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے انکار کے پیچھے صرف نافرمانی نہیں بلکہ اپنی برتری کا تصور بھی موجود تھا۔
گویا اس کے سامنے حق موجود تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکاری نہیں تھا اور اس نے عبادت بھی کی تھی۔ لیکن پھر بھی اس کی تباہی کا سبب کیا بنا؟ میرے نزدیک اس واقعے سے ایک بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ صرف ظاہری عبادت کافی نہیں اگر انسان اپنے اندر موجود تکبر اور انا کو قابو نہ کر سکے۔
انسان بعض اوقات یہی سمجھتا ہے کہ میں بہتر ہوں، میں زیادہ جانتا ہوں، میری بات درست ہے، اور میں غلط نہیں ہو سکتا۔ یہی انا بعض اوقات انسان کو حق قبول کرنے سے روک دیتی ہے۔ اسی لیے بلھے شاہ شاید انسان کو کہتے ہیں کہ تم صرف باہر موجود دشمن کو دیکھ رہے ہو، لیکن اپنے اندر موجود دشمن کو کیوں نہیں دیکھتے؟
انسان کو اس کا اپنا نفس کیسے نقصان پہنچاتا ہے؟
نفس انسان کو ہمیشہ ایک ہی دن میں مکمل تباہی کی طرف نہیں لے جاتا۔ اکثر آغاز ایک چھوٹی سی خواہش سے ہوتا ہے۔ پھر انسان اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے کوئی غلط راستہ اختیار کرتا ہے، اپنے آپ کو تسلی دیتا ہے، پھر دوبارہ وہی کام کرتا ہے، اور پھر ایک وقت آتا ہے جب اسے اپنی غلطی غلطی محسوس ہونا بند ہو جاتی ہے۔
یہی سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔ جب انسان اپنی غلطی کے لیے دلیل پیدا کرنے لگے، جب وہ حرام اور حلال کے درمیان فرق کو اپنے فائدے کے مطابق دیکھنے لگے، جب وہ غلط کام کو مجبوری کا نام دے کر اپنے ضمیر کو خاموش کرنے لگے، اور جب انسان اپنے فائدے کو ہی سچ سمجھنے لگے تو اسے اپنے نفس کو پہچاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔
میرے خیال میں بلھے شاہ انسان کو یہی سمجھا رہے ہیں کہ شیطان سے بچنے کی کوشش ضرور کرو، لیکن اپنے نفس سے بھی جنگ کرو۔ کیونکہ بعض اوقات انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کے باہر نہیں بلکہ اس کے اندر موجود ہوتا ہے۔
خواہشات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ
انسان کی ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری پیدا ہو جاتی ہے۔ اسے دولت چاہیے، دولت مل جاتی ہے تو مزید دولت چاہیے۔ اسے مقام چاہیے، مقام ملتا ہے تو مزید طاقت چاہیے۔ اسے شہرت چاہیے، شہرت ملتی ہے تو مزید لوگوں کی توجہ چاہیے۔ یوں انسان مسلسل دوڑتا رہتا ہے۔
وہ سوچتا ہے کہ بس یہ چیز مل جائے تو میں مطمئن ہو جاؤں گا۔ لیکن جب وہ چیز مل جاتی ہے تو نفس کہتا ہے کہ اب ایک اور چیز حاصل کرو۔ یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ میرے نزدیک یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو رک کر سوچنا چاہیے کہ کیا میں اپنی خواہشات کو کنٹرول کر رہا ہوں، یا میری خواہشات مجھے کنٹرول کر رہی ہیں؟
یہ سوال آسان نہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے، لیکن بعض اوقات وہ اپنی خواہشات کا غلام بن چکا ہوتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنی خواہش کے حکم پر چل رہا ہوتا ہے۔
دنیاوی مصروفیات اور موت کو بھول جانا
انسان نے خود کو دنیاوی مصروفیات میں اس قدر الجھا لیا ہے کہ بعض اوقات اسے اپنے اصل مقصد پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ صبح کام، دوپہر کام، رات کو منصوبے۔ پھر اگلے دن کے لیے تیاری، مزید کامیابی، مزید پیسہ، اور مزید ترقی۔ انسان ساری زندگی کسی نہ کسی چیز کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔
لیکن موت کسی کو یہ نہیں بتاتی کہ وہ کب آئے گی۔ انسان سمجھتا ہے کہ ابھی بہت وقت ہے، ابھی جوانی ہے، ابھی دنیاوی کام کر لیں۔ بعد میں اپنی اصلاح کر لیں گے، بعد میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں گے، اور بعد میں اپنی عادتیں بدلیں گے۔ لیکن انسان کے پاس کتنا وقت باقی ہے، یہ اسے معلوم نہیں۔
اسی لیے نفس سے جنگ کو کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ میرے نزدیک تیسرے شعر کا یہی سب سے بڑا سبق ہے کہ انسان دوسروں کو الزام دینے سے پہلے خود کو دیکھے۔
چوتھا شعر: آسمانوں کے راز جاننے کی کوشش، مگر قریب موجود حقیقت سے غفلت
بلھے شاہ آسمانی اڈدیاں پھڑدا اے
جیہڑا گھر بیٹھا انوں پھڑدا ای نئی
یہ شعر میرے لیے بھی شروع میں نسبتاً مشکل تھا، کیونکہ "آسمانی اڈدیاں پھڑنا" مختلف علامتی معنی رکھ سکتا ہے۔ لیکن جب میں نے اس شعر کو پہلے تین اشعار کے ساتھ ملا کر سوچا تو مجھے اس کا ایک خاص مفہوم سمجھ آیا۔ میرے خیال میں بلھے شاہ یہاں انسان کی اس عادت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ دور، پیچیدہ اور مشکل چیزوں کو جاننے کے لیے بے شمار کوششیں کرتا ہے، لیکن اپنے قریب موجود حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔
انسان نے پیچیدہ سے پیچیدہ راز جاننے کے لیے تحقیق کی، تجربات کیے، سائنس میں ترقی کی، اور نئی ایجادات کیں۔ اس نے جہاز بنا لیے، راکٹ بنا لیے، موبائل فون بنا لیا، انٹرنیٹ ایجاد کر لیا، اور مصنوعی ذہانت جیسی حیرت انگیز ٹیکنالوجی پیدا کر لی۔ انسان کی علمی ترقی واقعی حیرت انگیز ہے۔
یہاں بلھے شاہ شاید پوچھتے ہیں کہ تم نے دنیا کو جاننے کے لیے اتنی کوشش کی، مگر کیا تم نے خود کو جاننے کی کوشش بھی کی؟
آسمانوں کو دیکھنے والا انسان اپنے اندر کیوں نہیں دیکھتا؟
آج انسان نے آسمانوں اور خلا کو سمجھنے کے لیے بڑی بڑی دوربینیں بنائیں۔ اس نے زمین سے باہر جانے کے لیے راکٹ بنائے۔ اس نے دوسرے سیاروں، ستاروں اور کہکشاؤں کے بارے میں تحقیق کی۔ یہ انسانی ذہانت کی ایک عظیم مثال ہے۔ لیکن میرے نزدیک بلھے شاہ کا سوال علم اور تحقیق کے خلاف نہیں بلکہ انسان کی ترجیحات کے بارے میں ہے۔
انسان نے دور کی چیزوں کو جاننے کے لیے بہت محنت کی۔ لیکن اس نے اپنی زندگی کے مقصد کو جاننے کے لیے کتنی محنت کی؟ اس نے دنیا کو سمجھنے کی کوشش کی۔ لیکن خود کو سمجھنے کی کتنی کوشش کی؟ اس نے نئی ٹیکنالوجی پیدا کی، لیکن کیا اس نے اپنے کردار کو بھی بہتر بنایا؟ اس نے رابطے کے ذرائع پیدا کیے، لیکن کیا وہ اپنے گھر والوں اور اپنے رب کے قریب بھی ہوا؟ یہ سوال آج کے انسان کے لیے بہت اہم ہیں۔
سائنس کی ترقی اور انسان کی اخلاقی ترقی
انسان نے سائنس میں بہت ترقی کر لی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انسان نے اخلاق میں بھی اسی رفتار سے ترقی کی؟ انسان نے طاقتور ہتھیار بنا لیے، لیکن کیا اس نے امن قائم کرنا سیکھ لیا؟ انسان نے دنیا بھر سے رابطہ آسان بنا دیا، لیکن کیا وہ اپنے گھر میں موجود لوگوں کے قریب ہو گیا؟
انسان کے پاس معلومات کا سمندر موجود ہے، لیکن کیا اس کے پاس حکمت بھی موجود ہے؟ آج ایک موبائل فون میں انسان کو دنیا بھر کی معلومات مل سکتی ہیں۔ لیکن اگر انسان اس معلومات کے باوجود اپنے کردار، اپنے مقصد اور اپنے رب کے بارے میں سوچنے کی فرصت نہ نکالے تو سوال باقی رہتا ہے کہ اس کے علم نے اسے حقیقت میں کتنا بہتر انسان بنایا؟
میرے خیال میں یہی "آسمانی اڈدیاں پھڑنا" اور "گھر بیٹھا" کے درمیان موجود فرق ہے۔ انسان دور کی چیزوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے، لیکن جو حقیقت اس کے قریب ہے، اسے نظر انداز کر رہا ہے۔
"گھر" سے کیا مراد ہو سکتی ہے؟
اس شعر میں میرے نزدیک "گھر" صرف اینٹوں اور دیواروں سے بنا ہوا مکان نہیں۔ اگر ہم پچھلے تین اشعار کو سامنے رکھیں تو "گھر" سے انسان کی اپنی ذات، اس کا دل، اس کا باطن اور اس کی حقیقت بھی مراد لی جا سکتی ہے۔ پہلے شعر میں کہا گیا کہ تم نے خود کو نہیں پڑھا۔ دوسرے شعر میں کہا گیا کہ تم اپنے من کے اندر نہیں گئے۔ تیسرے شعر میں کہا گیا کہ تم نے اپنے نفس سے جنگ نہیں کی۔ اور چوتھے شعر میں کہا گیا کہ تم دور کی چیزوں کو پکڑنے کے لیے تو بھاگ رہے ہو، مگر جو تمہارے اپنے گھر میں موجود ہے، اسے نہیں پکڑتے۔
میرے نزدیک یہ چاروں اشعار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ انسان کو بار بار اپنی ذات کی طرف واپس لے کر آتے ہیں۔
قرآن کو سمجھنے اور اصل علم کی تلاش
انسان زندگی میں مختلف کتابیں ہے (نوٹ: پڑھتا ہے)۔ وہ کامیابی کے راز جاننا چاہتا ہے، موٹیویشنل کتابیں پڑھتا ہے، بڑے بڑے مفکرین کو پڑھتا ہے، اور کاروبار، ترقی اور کامیابی کے طریقے سیکھتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، لیکن ایک مسلمان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ قرآن کو صرف تلاوت تک محدود نہ رکھے بلکہ اس کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
قرآن انسان کو زندگی کے بہت سے بنیادی اصولوں کی طرف متوجہ کرتا ہے؛ جیسے اخلاق، انصاف، صبر، رحم، ذمہ داری، خاندان، انسانیت، اور اپنے رب کے ساتھ تعلق۔ میرے خیال میں انسان بعض اوقات دنیا کے ہر موضوع پر معلومات حاصل کر لیتا ہے، لیکن اپنی زندگی کی اصل کتاب کو سمجھنے کے لیے اتنی کوشش نہیں کرتا۔
یہاں مسئلہ دوسری کتابیں پڑھنا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے بنیادی مقصد کو بھول نہ جائے۔
چاروں اشعار ایک مکمل فکری سفر
جب میں اس پورے کلام کو ایک ساتھ دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلھے شاہ انسان کو چار مراحل سے گزار رہے ہیں:
- پہلا مرحلہ (خود کو پڑھو): تم نے دنیا کا علم حاصل کیا، لیکن اپنی حقیقت کو نہیں پہچانا۔ اپنے کردار، اپنی کمزوریوں اور اپنی زندگی کے مقصد پر غور کرو۔
- دوسرا مرحلہ اپنے من کے اندر جھانکو): تم اپنے رب کی تلاش میں باہر بہت نکلے، لیکن اپنے دل کی کیفیت کو نہیں دیکھا۔ اپنے وجود اور اپنے اردگرد موجود نشانیوں پر بھی غور کرو۔
- تیسرا مرحلہ اپنے نفس سے لڑو): تم اپنی غلطیوں کا الزام شیطان کو دیتے رہے، لیکن اپنی خواہشات، غرور اور انا کو قابو کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اپنے اندر موجود دشمن کو پہچانو۔
- چوتھا مرحلہ (قريب موجود حقیقت کو پہچانو): تم نے کائنات کے راز جاننے کے لیے بہت کوشش کی، لیکن اپنی ذات اور زندگی کے مقصد کو نہیں سمجھا۔ دور کے سفر سے پہلے اپنے اندر کا سفر بھی کرو۔
اس کلام کا سب سے بڑا پیغام: خود شناسی
میرے نزدیک اس پورے کلام کا بنیادی پیغام خود شناسی ہے۔ انسان کو علم حاصل کرنا چاہیے، لیکن اپنے آپ کو بھی پڑھنا چاہیے۔ اسے اپنے رب کی تلاش کرنی چاہیے، لیکن اپنے دل کی کیفیت کو بھی دیکھنا چاہیے۔ اسے شیطان کے وسوسوں سےبچناچاہیے، لیکن اپنے نفس سے بھی جنگ کرنی چاہیے۔ اسے دنیا کے راز جاننے چاہئیں، لیکن اپنی زندگی کے مقصد کو نہیں بھولنا چاہیے۔
انسان کی سب سے بڑی کامیابی صرف یہ نہیں کہ وہ دنیا میں مشہور ہو جائے۔ اصل کامیابی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اندر بہتر انسان پیدا کرے، سچ بولے، انصاف کرے، اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اپنے علم پر عمل کرے، اپنی خواہشات کو اپنا مالک نہ بننے دے، اور اپنی زندگی کے مقصد پر غور کرتا رہے۔
نتیجہ
بلھے شاہ کا یہ مختصر لیکن انتہائی گہرا کلام میرے نزدیک انسان کے سامنے ایک آئینہ رکھتا ہے۔ اس آئینے میں انسان کو دنیا نہیں بلکہ خود کو دیکھنا ہے۔ پہلے شعر میں انسان سے پوچھا گیا کہ تم نے اتنا علم حاصل کیا، مگر کیا خود کو جانا؟ دوسرے شعر میں پوچھا گیا کہ تم اپنے رب کو باہر تلاش کرتے رہے، مگر کیا اپنے دل کے اندر جھانکا؟ تیسرے شعر میں انسان کو یاد دلایا گیا کہ تم ہر غلطی کا الزام شیطان کو دیتے رہے، مگر کیا کبھی اپنے نفس سے جنگ کی؟ اور آخری شعر میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ تم آسمانوں اور دور دراز کے رازوں کو جاننے کے لیے تو پوری زندگی لگا دیتے ہو، مگر جو حقیقت تمہارے اپنے قریب موجود ہے، اسے کیوں نہیں پہچانتے؟
میرے نزدیک اس کلام کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ یہ انسان کو صرف ایک جواب نہیں دیتا بلکہ اس کے اندر سوال پیدا کرتا ہے۔ اور شاید انسان کی اصل تبدیلی اسی وقت شروع ہوتی ہے جب وہ خود سے سوال کرنا شروع کرتا ہے:
- میں کون ہوں؟
- میں کیا کر رہا ہوں اور کیوں کر رہا ہوں؟
- میں جو جانتا ہوں، کیا اس پر عمل بھی کرتا ہوں؟
- میں اپنے رب کو کہاں تلاش کر رہا ہوں؟
- میرا سب سے بڑا دشمن کون ہے؟
- اور کیا میں نے کبھی اپنے اندر موجود انسان کو واقعی پہچاننے کی کوشش کی ہے؟
شاید یہی سوال انسان کو علم سے آگے بڑھا کر معرفت کی طرف لے جاتے ہیں۔ شاید یہی سفر باہر سے اندر کی طرف سفر ہے۔ اور شاید انسان کی سب سے بڑی فتح پوری دنیا کو فتح کرنا نہیں بلکہ اپنے آپ کو پہچاننا اور اپنے نفس پر قابو پانا ہے۔
0 Comments