جے رکھے تعلق تاں تیری مرضی - شاکر شجاع آبادی تشریح

شاکر شجاع آبادی: جے رکھے تعلق تاں تیری مرضی

جے رکھے تعلق تاں تیری مرضی
مکاوی چھوڑیں تاں مسئلہ کوئی نئیں

دل دے کاغذ تو لفظ سنگت دا
میٹا وی چھوڑیں تاں مسئلہ کوئی نئیں

وفا کریسیں وفا کریساں
جے میرا بنڑیوں تاں تیرا بنڑساں

جے یاد رکهیسیں تاں مہربانی
وسار چھوڑیں تاں مسئلہ کوئی نئیں

شاکر شجاع آبادی: عشق کی دیوانگی سے ایثارِ محبوب تک ایک ادبی سفر

سرائیکی ادب کا جب بھی ذکر کیا جاتا ہے تو چند ایسے نام سامنے آتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف زبان کی خدمت کی بلکہ انسان کے دل میں چھپے ان جذبات کو بھی لفظ عطا کیے جنہیں عام آدمی بیان نہیں کر پاتا۔ ان عظیم شخصیات میں شاکر شجاع آبادی کا نام ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کی شاعری محض قافیہ اور ردیف کا حسین امتزاج نہیں بلکہ درد، محبت، محرومی، خودداری اور انسانی احساسات کا ایسا آئینہ ہے جس میں ہر پڑھنے والا اپنے دل کی کیفیت دیکھ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام صرف سرائیکی وسیب تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی بے حد محبت اور احترام سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔

شاکر شجاع آبادی کی شاعری کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ وہ محبت کو صرف جذباتی وابستگی کے طور پر پیش نہیں کرتے بلکہ اسے ایک ذمہ داری، ایک عہد اور ایک پاکیزہ تعلق کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ ان کے بہت سے اشعار میں عشق کی شدت ضرور ملتی ہے، لیکن اس شدت میں کہیں بھی ہوس، خود غرضی یا محبوب پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا جذبہ نظر نہیں آتا۔ ان کے ہاں محبت کا اصل حسن محبوب کی عزت، اس کی رضا اور اس کے اختیار کو مقدم رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار دل پر براہِ راست اثر کرتے ہیں، کیونکہ وہ انسان کی فطری خواہشات اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے درمیان ایک خوبصورت توازن قائم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

زیرِ نظر غزل بھی اسی فکر کی بہترین نمائندہ ہے۔ اس غزل میں ایک ایسا عاشق سامنے آتا ہے جو اپنے محبوب سے صرف وقتی تعلق یا وقتی خوشی نہیں چاہتا، بلکہ وہ ایک ایسا پاکیزہ اور باوقار رشتہ چاہتا ہے جسے معاشرہ بھی عزت کی نگاہ سے دیکھے۔ اس کی خواہش یہ نہیں کہ محبوب چند لمحوں کے لیے اس کا ساتھ دے، بلکہ وہ اسے اپنی پوری زندگی میں ایک مستقل مقام دینا چاہتا ہے۔ اس کی محبت میں نکاح کا تقدس، وفاداری کا عہد، احترام کا جذبہ اور ایثار کی خوشبو نمایاں محسوس ہوتی ہے۔

اگر اس غزل کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اپنے محبوب سے صرف یہ نہیں کہہ رہا کہ "مجھے قبول کر لو"، بلکہ وہ یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ اگر میری محبت تمہارے لیے باعثِ سکون نہیں بنتی تو میں تمہاری خوشی کو اپنی خواہش پر ترجیح دوں گا۔ یہی وہ جذبہ ہے جو سچی محبت کو خود غرض خواہش سے الگ کرتا ہے۔ شاکر شجاع آبادی کی یہی فکر اس غزل کے ہر شعر میں کسی نہ کسی صورت میں جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔

آئیے، اب اس خوبصورت غزل کے اشعار کو ایک ایک کرکے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ شاعر محبت، وفاداری، خودداری اور ایثار جیسے عظیم جذبوں کو کس انداز میں ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔

شعر نمبر 1: عشق میں دیوانگی اور محبوب کا حقِ انتخاب

جے رکھے تعلق تاں تیری مرضی
مکاویں چھوڑیں تاں مسئلہ کوئی نئیں

شاکر شجاع آبادی اس غزل کے پہلے ہی شعر میں محبت کا ایک ایسا تصور پیش کرتے ہیں جو بظاہر بہت سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر جذبات، خودداری اور ایثار کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔ شاعر نہایت پرسکون انداز میں، ایک ٹھنڈی آہ کے ساتھ اپنے محبوب سے مخاطب ہوتا ہے۔ اس کے لہجے میں نہ غصہ ہے، نہ شکوہ کرنے کی شدت، نہ الزام اور نہ ہی کوئی شکایت۔ بلکہ ایک ایسا عاشق گفتگو کر رہا ہے جو اپنی محبت کی گہرائی سے پوری طرح واقف ہے اور اسی لیے محبوب پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنا نہیں چاہتا۔

شاعر گویا اپنے محبوب سے کہہ رہا ہے کہ اگر تمہیں میری محبت قبول ہے تو یہ تمہاری اپنی مرضی ہے، اور اگر تم اس تعلق کو ختم کرنا چاہتے ہو تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ بظاہر یہ جملہ بہت مختصر ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اندر عشق کی ایک پوری فلسفیانہ سوچ پوشیدہ ہے۔ عام طور پر محبت میں انسان اپنے محبوب کو ہر صورت اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے، لیکن یہاں عاشق اپنے محبوب کو مکمل اختیار دے رہا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر کی محبت خود غرضی سے نکل کر ایثار اور احترام کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

اس شعر کو اگر آپ کی بیان کردہ سوچ کے مطابق سمجھا جائے تو ایک اور خوبصورت پہلو سامنے آتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے ایسی محبت نہیں چاہتا جو مجبوری، ترس یا دباؤ کی بنیاد پر قائم ہو۔ وہ نہیں چاہتا کہ محبوب صرف اس خوف سے اس کا ساتھ دے کہ کہیں عاشق ٹوٹ نہ جائے یا اسے کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ اس کے نزدیک محبت وہی ہے جو دل کی گہرائی سے قبول کی جائے، جس میں رضا بھی ہو، احترام بھی ہو اور اخلاص بھی۔ اگر ان چیزوں میں سے کوئی ایک بھی موجود نہ ہو تو پھر وہ تعلق اپنی اصل خوبصورتی کھو دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شاعر بڑے وقار کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر تم مجھے چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہو تو بھی مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔ اس جملے کو ہرگز بے حسی یا بے پروائی نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ ایک ایسے عاشق کی خودداری کا اظہار ہے جو خیرات میں ملنے والی محبت قبول نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ زبردستی قائم رکھا گیا تعلق نہ صرف دونوں دلوں کے لیے بوجھ بن جاتا ہے بلکہ محبت کی اصل روح کو بھی ختم کر دیتا ہے۔

اس شعر میں ایک اور اہم بات یہ محسوس ہوتی ہے کہ شاعر اپنے محبوب کی عزت اور سماجی وقار کو بھی مقدم رکھتا ہے۔ اس کی محبت کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ محبوب کو ایسی کیفیت میں مبتلا کیا جائے جہاں اسے اپنے فیصلوں پر شرمندگی محسوس ہو۔ بلکہ وہ ایک ایسا پاکیزہ رشتہ چاہتا ہے جس میں دونوں ایک دوسرے کو عزت دیں، ایک دوسرے کی رضا کا خیال رکھیں اور اگر کبھی راستے جدا بھی ہوں تو احترام باقی رہے۔ یہی سوچ اس غزل کو عام رومانوی شاعری سے الگ کر دیتی ہے۔

آپ کی تشریح کے مطابق اس شعر میں عاشق کی دیوانگی ضرور موجود ہے، لیکن یہ دیوانگی بے قابو جذبات کی نہیں بلکہ شعور، برداشت اور قربانی کی دیوانگی ہے۔ محبوب کی ایک ادا پر اپنا دل ہار دینے والا یہ عاشق آج بھی اسی شدت سے محبت کرتا ہے، لیکن وہ اس محبت کو محبوب پر بوجھ نہیں بننے دیتا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ اگر تم میرے نہ ہوئے تو میں تمہیں بدنام کر دوں گا، یا تمہیں کسی صورت جانے نہیں دوں گا۔ بلکہ وہ بڑی خاموشی سے کہتا ہے کہ میری محبت اپنی جگہ قائم رہے گی، لیکن تمہاری خوشی اور تمہارا اختیار بھی میرے لیے اتنا ہی اہم ہے۔

اسی مقام پر شاکر شجاع آبادی کا کردار ایک عام عاشق سے بلند ہو کر ایک باوقار انسان کے طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ محبت کو حاصل کرنے کی ضد نہیں بناتے بلکہ اسے احترام، آزادی اور اخلاص کا نام دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار صرف محبت کرنے والوں کے دل کو نہیں چھوتے بلکہ ہر اس انسان کو متاثر کرتے ہیں جو رشتوں میں عزت، اعتماد اور خلوص کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔

شعر نمبر 2: دل کے کاغذ پر لکھی محبت اور عاشق کی خودداری

دل دے کاغذ توں لفظ سنگت دا
میٹا وی چھوڑیں تاں مسئلہ کوئی نئیں

شاکر شجاع آبادی نے غزل کے اس دوسرے شعر میں ایک نہایت خوبصورت، گہرا اور فکر انگیز خیال پیش کیا ہے۔ بظاہر یہ شعر چند لفظوں پر مشتمل ہے، لیکن اگر اس کے اندر اتر کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شاعر محبت، خودداری اور محبوب کی آزادی جیسے بڑے موضوعات کو انتہائی سادہ انداز میں بیان کر گیا ہے۔

شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگر تم نے کبھی اپنے دل کے کاغذ پر میرا نام لکھ لیا تھا، لیکن اب تمہیں محسوس ہوتا ہے کہ تم اس تعلق کو آگے نہیں بڑھانا چاہتے، تو تم بے فکر ہو کر میرے نام کو اپنے دل سے مٹا دو۔ مجھے اس بات کا کوئی شکوہ نہیں ہوگا۔ یہاں شاعر صرف محبوب کو بھول جانے کی اجازت ہی نہیں دے رہا، بلکہ وہ محبوب کے دل میں پیدا ہونے والی کشمکش کو بھی سمجھ رہا ہے کہ شاید وہ شاعر کو صرف ترس کھا کر قبول نہ کر لے۔

شاعر فوراً اپنے محبوب کو اس بوجھ سے آزاد کر دیتا ہے اور واضح الفاظ میں یہ احساس دلاتا ہے کہ میں زبردستی کی محبت، خیرات میں ملی ہوئی محبت، یا ہمدردی کی بنیاد پر قائم ہونے والا رشتہ نہیں چاہتا۔ محبت اگر دل سے پیدا نہ ہو تو وہ محبت نہیں رہتی، صرف ایک سمجھوتہ بن جاتی ہے، اور شاعر ایسے کسی سمجھوتے پر راضی نہیں۔

اس شعر میں "دل دے کاغذ" کی ترکیب انتہائی خوبصورت ہے۔ شاعر نے دل کو کاغذ سے تشبیہ دے کر یہ اشارہ دیا ہے کہ انسان کے دل پر یادیں اور محبتیں اسی طرح نقش ہو جاتی ہیں جیسے کاغذ پر لفظ لکھے جاتے ہیں۔ شاعر اگرچہ محبوب کو اپنے دل سے اپنا نام مٹانے کی اجازت دے دیتا ہے، لیکن اس کے اپنے دل پر لکھی ہوئی محبت کبھی نہیں مٹتی۔

یہی بات اس شعر کا سب سے بڑا حسن ہے کہ یہاں محبت اپنی انتہا پر بھی ہے اور خودداری بھی برقرار ہے۔ عاشق اپنے جذبات کی گہرائی کم نہیں کرتا، لیکن محبوب کی آزادی بھی نہیں چھینتا۔ شاکر شجاع آبادی یہاں محبت کو عزت دیتے ہیں، محبوب کو عزت دیتے ہیں اور اپنے کردار کو بھی عزت دیتے ہیں، اسی لیے ان کی شاعری آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔

شعر نمبر 3: وفا، نکاح اور زندگی بھر کی وابستگی

وفا کریسیں وفا کریساں
جے میرا بنڑیوں تاں تیرا بنڑساں

شاکر شجاع آبادی نے غزل کے اس تیسرے شعر میں محبت کا ایک نہایت خوبصورت، باوقار اور ذمہ دار تصور پیش کیا ہے۔ میرے نزدیک اس شعر میں شاعر صرف محبت کا اظہار نہیں کر رہا بلکہ اپنی محبت کا مقصد بھی واضح کر رہا ہے۔ وہ اپنے محبوب سے وقتی تعلق، وقتی خوشی یا چند لمحوں کی رفاقت نہیں چاہتا، بلکہ وہ ایک ایسا رشتہ چاہتا ہے جو زندگی بھر قائم رہے، جس کی بنیاد وفا، اعتماد اور احترام پر ہو۔

شاعر اپنے محبوب سے نہایت خلوص کے ساتھ مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگر تم میری محبت کو دل سے قبول کر لو، اگر تم میرے ساتھ وفا کا وعدہ کرو اور اپنی زندگی میں مجھے جگہ دو، تو میں بھی وعدہ کرتا ہوں کہ میری محبت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، زیادہ مخلص اور زیادہ پائیدار ہو جائے گی۔ میں پہلے بھی تمہارا چاہنے والا ہوں، لیکن جب مجھے یقین ہو جائے گا کہ تم بھی مجھے اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتے ہو، تو میری وفا میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو جائے گی۔

میرے خیال میں شاعر یہاں محبت کو صرف جذبات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے ایک مقدس رشتے کی صورت میں دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعر کو نکاح کے تناظر میں بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ شاعر کی خواہش یہ نہیں کہ اس کا محبوب صرف اس کے ساتھ وقت گزارے، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اسے اپنی پوری زندگی میں ایک باعزت مقام دے، ایسا مقام جسے معاشرہ بھی عزت کی نگاہ سے دیکھے اور جو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر قائم ہو۔

آپ کی تشریح کا یہی پہلو اس شعر کو ایک منفرد زاویہ دیتا ہے۔ آپ نے جس طرح نکاح کے تقدس کو اس شعر سے جوڑا ہے، اس سے محبت کا مقصد مزید واضح ہو جاتا ہے۔ شاعر گویا یہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر تم مجھے اپنی زندگی کا ساتھی بنانا چاہتے تو میں بھی اپنی پوری زندگی تمہارے نام کر دوں گا۔ میری محبت صرف زبان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ہر عمل، ہر فیصلے اور ہر موڑ پر تمہارا ساتھ نبھانے کی صورت میں ظاہر ہوگی۔

اسی تناظر میں ایک اور خوبصورت بات بھی سامنے آتی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے اگرچہ مرد کو بعض مخصوص شرائط کے ساتھ ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت دی ہے، لیکن کسی شخص کا اپنی خوشی اور اپنی مرضی سے ایک ہی شریکِ حیات کے ساتھ پوری زندگی وفاداری سے گزارنے کا عہد کرنا بھی ایک اعلیٰ اخلاقی جذبہ ہے۔ میرے نزدیک شاعر اسی کیفیت کو بیان کر رہا ہے کہ جب تم میری زندگی میں آ جاؤ گے تو پھر میری نظر میں تم ہی پہلی ترجیح بھی ہو گے اور آخری منزل بھی۔ میری محبت کسی اور کی تلاش میں نہیں رہے گی، کیونکہ میری دنیا تم پر مکمل ہو جائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ شاعر کے لہجے میں نہ کوئی دکھاوا ہے، نہ کوئی بڑی بڑی قسمیں، بلکہ ایک خاموش یقین اور سچا وعدہ ہے۔ وہ محبوب کو یقین دلا رہا ہے کہ میری محبت وقتی جذبات کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا عہد ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔ یہی وفا کا اصل مفہوم بھی ہے کہ حالات بدل جائیں، وقت بدل جائے، لیکن انسان اپنے وعدے سے پیچھے نہ ہٹے۔

اگر اس شعر کو نفسیاتی زاویے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی میں ایک ایسے رشتے کی تلاش میں ہوتا ہے جہاں اسے مکمل قبولیت، اعتماد اور تحفظ کا احساس ہو۔ شاعر بھی اپنے محبوب سے یہی چاہتا ہے۔ وہ کسی غیر یقینی تعلق میں نہیں رہنا چاہتا بلکہ ایک ایسا رشتہ چاہتا ہے جس میں دونوں ایک دوسرے کے لیے باعثِ سکون بن جائیں۔ یہی سکون نکاح کا بھی بنیادی مقصد ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں میاں بیوی کے تعلق کو "سکون" کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

میرے نزدیک یہی اس شعر کا سب سے خوبصورت پہلو ہے کہ یہاں محبت صرف جذبات نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے، صرف خواہش نہیں بلکہ وفا کا عہد بھی ہے، اور صرف ساتھ رہنے کی بات نہیں بلکہ پوری زندگی ایک دوسرے کا سہارا بننے کا وعدہ بھی ہے۔ شاکر شجاع آبادی اس مختصر سے شعر میں محبت کو ایک ایسا باوقار مقام دیتے ہیں جہاں عاشق اپنے محبوب کو عزت، تحفظ، وفاداری اور ہمیشہ ساتھ نبھانے کی یقین دہانی کراتا ہے۔

شعر نمبر 4: ایثار کی معراج اور محبوب کی خوشی

جے یاد رکھیسیں تاں مہربانی
وسار چھوڑیں تاں مسئلہ کوئی نئیں

غزل کے اس آخری شعر میں شاکر شجاع آبادی محبت کو اس مقام پر لے آتے ہیں جہاں انسان اپنی ذات سے زیادہ اپنے محبوب کی خوشی کو اہمیت دینے لگتا ہے۔ میرے نزدیک یہی اس پوری غزل کا سب سے خوبصورت اور سب سے بلند مقام ہے۔ یہاں آ کر شاعر کی محبت صرف محبت نہیں رہتی بلکہ ایثار، خلوص، برداشت اور اعلیٰ ظرفی کی ایک مکمل تصویر بن جاتی ہے۔

شاعر نہایت محبت بھرے انداز میں اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگر تم میری اس بے پناہ محبت، میرے خلوص اور میری وفاداری سے اتنے متاثر ہو کہ زندگی بھر مجھے یاد رکھنا چاہتے ہو، تو یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ اس سے بڑھ کر میرے لیے اور کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ جس انسان کی محبت میں میں نے خود کو فنا کر دیا، اس کے دل میں بھی میری محبت کی ایک جگہ موجود رہے۔

میرے نزدیک شاعر یہاں یاد رکھے جانے کی خواہش ضرور ظاہر کرتا ہے، لیکن وہ اس خواہش کو محبوب پر مسلط نہیں کرتا۔ وہ اپنے محبوب سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ تمہیں ہر حال میں مجھے یاد رکھنا ہی ہوگا۔ بلکہ وہ نہایت عاجزی سے کہتا ہے کہ اگر تم یاد رکھو گے تو یہ تمہاری مہربانی ہوگی، اور اگر بھول جاؤ گے تو بھی مجھے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ محبت کو قید نہیں بناتا، نہ محبوب کو کسی احساسِ جرم میں مبتلا کرتا ہے۔ بلکہ وہ محبوب کو مکمل آزادی دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ اپنی خوشی سے کرے۔

آپ کی تشریح کے مطابق اس شعر کا ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ شاعر گویا اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارے قابل نہیں ہوں، اگر تمہاری خوشی کسی اور کے ساتھ وابستہ ہے، اگر تم سمجھتے ہو کہ کوئی اور شخص تمہیں مجھ سے زیادہ خوش رکھ سکتا ہے، تو تم بلا جھجھک اس راستے کا انتخاب کر لو۔ میری محبت کا مقصد تمہیں اپنی خواہشات کی زنجیر میں باندھنا نہیں، بلکہ تمہیں خوش دیکھنا ہے۔

یہ الفاظ ایک عام عاشق کے نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے ہیں جو محبت کے اصل مفہوم کو سمجھ چکا ہے۔ کیونکہ خود غرض محبت ہمیشہ محبوب کو حاصل کرنا چاہتی ہے، جبکہ سچی محبت محبوب کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرتی ہے۔ یہاں شاعر کی خودداری بھی قائم رہتی ہے اور اس کی محبت بھی۔ وہ نہ تو اپنی محبت سے انکار کرتا ہے اور نہ ہی محبوب سے شکوہ کرتا ہے۔ بلکہ وہ بڑے اطمینان کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر میری قسمت میں تمہارا ساتھ نہیں لکھا، تب بھی میری دعا یہی رہے گی کہ تم ہمیشہ خوش رہو۔

میرے نزدیک یہی اس غزل کا اصل پیغام بھی ہے۔ محبت کا مطلب صرف کسی کو حاصل کرنا نہیں، بلکہ اس کی عزت، اس کی آزادی، اس کی خوشی اور اس کے مستقبل کی حفاظت کرنا بھی ہے۔ شاکر شجاع آبادی اسی لیے محبت کو ایک اعلیٰ اخلاقی مقام پر لے جاتے ہیں، جہاں عاشق اپنی خواہشات کو بھی قربان کر دیتا ہے لیکن محبوب کی خوشی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔

غزل کے اختتام پر شاعر یہ احساس دلاتا ہے کہ سچی محبت کبھی نفرت میں تبدیل نہیں ہوتی۔ اگر محبوب ساتھ دے تو محبت باقی رہتی ہے، اور اگر محبوب جدا ہو جائے تو دعائیں باقی رہتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ شعر پڑھنے والے کے دل میں دیر تک گونجتا رہتا ہے، کیونکہ اس میں محبت کی وہ خوشبو موجود ہے جو وقت گزرنے کے باوجود بھی کم نہیں ہوتی بلکہ انسان کے کردار کو مزید خوبصورت بنا دیتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments