میڈے دل دی سنج حویلی کوں - شاکر شجاع آبادی سرائیکی شاعری

میڈے دل دی سنج حویلی کوں: شاکر شجاع آبادی کے کلام کی تشریح

تحقیق و پیشکش: البیلا منڈا (ماہر سرائیکی کلام)

میڈے دل دی سنج حویلی کوں

توں اج وی ڈھول وسا سگدیں


میڈی رس گئی مست جوانی دی

انمول بہار کوں ولا سگدیں


تونڑیں لکھ پہرے وی ہون

پر جے دل ہووی تاں آسگدیں


جیڑھے ودن پھوت بنڑائی شاکر

انھاں غیراں دا سر جھکا سگدیں

جامع اردو تشریح و مفہوم

شاکر شجاع آبادی کا یہ کلام امید، تڑپ اور محبوب کی طاقت پر یقین کا مظہر ہے۔ شاعر نے بہت خوبصورت استعاروں کا استعمال کیا ہے۔

ویران دل کی بستی: پہلے بند میں شاعر اپنے دل کو ایک "سنج حویلی" (ویران حویلی) سے تشبیہ دے رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اے میرے محبوب (ڈھول)، میرا دل تمہارے بغیر اجڑ چکا ہے، لیکن تمہارے اندر وہ طاقت ہے کہ تم آج بھی چاہو تو اسے دوبارہ بسا سکتے ہو اور میری زندگی میں رونق لا سکتے ہو۔

کھوئی ہوئی بہار: شاعر کہتا ہے کہ میری جوانی کی خوشیاں اور بہاریں مجھ سے روٹھ چکی ہیں۔ لیکن اگر تم لوٹ آؤ تو وہ انمول بہاریں دوبارہ واپس آ سکتی ہیں۔ یہ محبوب کی آمد سے زندگی میں آنے والی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔

عزم و ہمت: "تونڑیں لکھ پہرے وی ہون" - شاعر کہتا ہے کہ دنیا چاہے جتنی رکاوٹیں ڈالے، جتنے پہرے لگا دے، اگر انسان کے دل میں سچی تڑپ ہو تو وہ پہنچ ہی جاتا ہے۔ یہاں محبوب کے ارادے اور ہمت کو پکارا گیا ہے۔

غیراں کا سر جھکانا: آخری شعر بہت طاقتور ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو دشمن (غیر) آج تکبر میں ہیں اور ہماری جدائی پر خوش ہو رہے ہیں، اگر تم ایک بار میرا ہاتھ تھام لو اور لوٹ آؤ، تو ان سب مغرور دشمنوں کا سر خود بخود جھک جائے گا۔

شاکر شجاع آبادی کے کلام کی فنی و ادبی اہمیت

شاکر شجاع آبادی کی یہ غزل محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ سرائیکی وسیب کی روح اور ثقافت کا نچوڑ ہے۔ اس کلام میں استعمال ہونے والے مخصوص الفاظ جیسے "سنج" (ویرانی)، "ڈھول" (محبوب)، اور "پھوت" (تکبر یا غرور) اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ شاعر کو اپنی زبان اور معاشرت پر کتنا گہرا عبور حاصل ہے۔

البیلا منڈا بلاگ پر ہماری کوشش یہ ہے کہ سرائیکی ادب کے اس قیمتی ورثے کو نہ صرف محفوظ کیا جائے بلکہ سادہ اردو تشریح کے ذریعے ان لوگوں تک بھی پہنچایا جائے جو سرائیکی لہجوں کی گہرائی سے واقف نہیں ہیں۔ یہ کلام ہمیں سکھاتا ہے کہ سچی محبت میں انا نہیں ہوتی بلکہ محبوب کی رضا اور اپنی خودداری کا ایک خوبصورت توازن ہوتا ہے۔

اس شاعری کا فنی حسن یہ ہے کہ یہ سادہ ہونے کے باوجود دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں بھی شاکر صاحب کا کلام نوجوانوں اور بوڑھوں میں یکساں مقبول ہے اور سوشل میڈیا پر اسے ایک خاص مقام حاصل ہے۔

Post a Comment

0 Comments