جے تنگ ہوویں اساڈی ذات کنوں | شاکر شجاع آبادی مکمل تشریح

جے تنگ ہوویں اساڈی ذات کنوں - شاکر شجاع آبادی | مکمل تشریح

جے تنگ ہوویں اساڈی ذات کنوں — شاکر شجاع آبادی کی مشہور غزل کی مکمل تشریح

سرائیکی ادب میں شاکر شجاع آبادی کا نام ایک روشن ستارے کی مانند ہے۔ ان کی شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ دل کے ٹوٹنے، محبت کے بکھرنے، دعا کے یقین اور انسان کے باطن کی آواز ہے۔ یہ غزل بھی انہی گہرے جذبات کی عکاسی کرتی ہے جہاں شاعر محبت، درد، دعا اور جدائی کے احساس کو نہایت سادہ مگر انتہائی مؤثر انداز میں بیان کرتا ہے۔

جے تنگ ہوویں اساڈی ذات کنوں
ڈے صاف ڈسا تیڈے جان چھٹے

رب توں منگی ضائع نئیں ویندی
منگ ڈیکھ دعا تیڈی جان چھٹے

تیکوں پیار کئتم تیڈا مجرم ہاں
ڈے سخت سزا تیڈی جان چھٹے

ایویں مار نہ "شاکر" قسطاں وچ
یک مشت مکا تیڈی جان چھٹے

شاکر شجاع آبادی کا تعارف

شاکر شجاع آبادی سرائیکی زبان کے ان عظیم اور مقبول شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے عام انسان کے جذبات، دکھ، محبت، محرومی اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کو آواز دی۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مشکل الفاظ اور پیچیدہ انداز اختیار کرنے کے بجائے عام فہم زبان میں ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو سیدھا انسان کے دل تک پہنچ جاتی ہے۔

شاکر شجاع آبادی کا کلام صرف محبت کے جذبات تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایک عام انسان کی پوری زندگی کی تصویر نظر آتی ہے۔ ان کے اشعار میں کہیں محبت کی شدت ہے، کہیں جدائی کا درد، کہیں معاشرتی مسائل کا ذکر اور کہیں انسان کی اندرونی کیفیتوں کا بیان ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری صرف پڑھے لکھے طبقے تک محدود نہیں رہی بلکہ عام لوگوں کے دلوں کی آواز بن گئی۔

شاعر کی خاص بات یہ ہے کہ وہ محبت کو صرف ایک خوشگوار احساس کے طور پر پیش نہیں کرتے بلکہ اس کے اندر چھپے ہوئے درد، انتظار، بے بسی اور قربانی کو بھی بیان کرتے ہیں۔ ان کے ہاں عاشق ایسا کردار ہے جو اپنے محبوب سے سچی محبت کرتا ہے، اس کی خوشی چاہتا ہے، لیکن اپنی عزتِ نفس کو بھی ختم نہیں کرتا۔

زیرِ نظر غزل بھی شاکر شجاع آبادی کے اسی منفرد انداز کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں ایک ایسے عاشق کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو اپنے محبوب سے بے حد محبت کرتا ہے، لیکن اس محبت کو زبردستی منوانے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ محبوب کی مرضی کا احترام کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنے دل کے درد اور اپنی کیفیت کو بھی نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔

غزل کا تعارف

شاکر شجاع آبادی کی یہ غزل محبت کے اس پہلو کو بیان کرتی ہے جہاں انسان کسی کو دل سے چاہتا ہے، لیکن اسے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ محبت ہمیشہ دونوں طرف سے ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک شخص اپنی پوری زندگی کسی کی محبت میں گزار دیتا ہے، جبکہ دوسرا شخص اس جذبے کو محسوس ہی نہیں کرتا۔

اس غزل میں شاعر ایک ایسے عاشق کی نمائندگی کرتا ہے جو محبوب سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس پر کوئی حق جتانے کے بجائے اس کی خوشی کو اہمیت دیتا ہے۔ وہ محبوب سے صرف اتنی درخواست کرتا ہے کہ اگر میری محبت تمہارے لیے بوجھ بن چکی ہے تو مجھے حقیقت بتا دو، تاکہ میں خود کو اس تکلیف دہ انتظار سے آزاد کر سکوں۔

یہ غزل صرف محبت کی داستان نہیں بلکہ انسان کی عزتِ نفس، خودداری اور جذباتی کیفیتوں کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔ شاعر محبت میں مخلص ہے، لیکن اپنی ذات کی توہین برداشت نہیں کرنا چاہتا۔ وہ محبوب کی بے رخی کو محسوس کرتا ہے، لوگوں کے طعنوں کو برداشت کرتا ہے، لیکن پھر بھی اپنی محبت کی سچائی سے انکار نہیں کرتا۔

غزل کا مرکزی خیال

شاکر شجاع آبادی کی اس غزل کا بنیادی خیال محبت میں خودداری، بے لوث چاہت، محبوب کی آزادی کا احترام اور جدائی کے درد کو بیان کرنا ہے۔ شاعر کے نزدیک محبت کوئی ایسا معاملہ نہیں جسے زبردستی حاصل کیا جا سکے۔ دل کے جذبات انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے۔ کسی کو چاہنا یا کسی کی یاد میں تڑپنا ایک ایسی کیفیت ہے جو خود بخود دل میں پیدا ہوتی ہے۔

غزل کے پہلے شعر میں شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ اگر میری ذات تمہارے لیے پریشانی کا سبب بن گئی ہے، اگر میری محبت تمہیں بوجھ محسوس ہوتی ہے تو مجھے صاف صاف بتا دو۔ دوسرے شعر میں شاعر اپنی محبت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے جوڑتا ہے، جبکہ تیسرے شعر میں وہ اپنی محبت کا اعتراف کرتے ہوئے خود کو محبوب کا مجرم قرار دیتا ہے۔ آخری شعر میں شاعر اپنی تکلیف کی انتہا بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے روز روز کی اذیت نہ دو، ایک ہی بار فیصلہ کر دو۔

مجموعی طور پر یہ غزل ایک ایسے عاشق کی آواز ہے جو محبت میں سچا ہے، درد میں صابر ہے، لیکن اپنی عزتِ نفس کو بھی قائم رکھتا ہے۔ شاعر محبوب سے محبت ضرور کرتا ہے، مگر اسے مجبور نہیں کرتا۔ یہی بات اس غزل کو دل کو چھو لینے والی اور یادگار بناتی ہے۔

شعر نمبر 1: خودداری اور سچائی کا اعتراف

جے تنگ ہوویں اساڈی ذات کنوں
ڈے صاف ڈسا تیڈے جان چھٹے

یہ شعر محبت میں عزتِ نفس، خودداری اور بے لوث محبت کی ایک نہایت خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے انتہائی سادہ مگر دل کو چھو لینے والے انداز میں مخاطب ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میری موجودگی تمہارے لیے بوجھ بن چکی ہے، اگر میری صورت، میری ذات یا میری بے پناہ محبت تمہیں ناگوار گزرتی ہے، اگر میری قربت تمہارے دل میں گھٹن پیدا کرتی ہے، تو پھر خاموش رہنے یا رسمی تعلق نبھانے کے بجائے مجھے صاف صاف بتا دو۔ سچ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو، انسان اسے برداشت کر لیتا ہے، لیکن بے یقینی اور خاموشی انسان کو ہر روز تھوڑا تھوڑا کر کے توڑ دیتی ہے۔

شاعر جانتا ہے کہ وہ اپنے محبوب سے ایسی محبت کرتا ہے جس سے اب واپسی ممکن نہیں۔ اس کے لیے محبوب کو دیکھے بغیر ایک لمحہ گزارنا بھی آسان نہیں، کیونکہ سچا عاشق اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے۔ محبت نہ تو سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی حساب کتاب کے تحت ختم کی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود شاعر اپنے جذبات کو محبوب پر مسلط نہیں کرتا، بلکہ محبت کے ساتھ ساتھ اس کی عزت اور وقار کو بھی مقدم رکھتا ہے۔ وہ گویا یہ کہنا چاہتا ہے کہ اے میرے محبوب! میری محبت اپنی جگہ، لیکن تیری عزت، تیری خوشی اور تیرا سکون میرے اپنے وجود سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ اگر میری چاہت تمہارے لیے باعثِ پریشانی ہے تو میں یہ تکلیف بھی قبول کر لوں گا، بس مجھے حقیقت سے آگاہ کر دو۔

اس شعر میں ایک اور نہایت باریک احساس بھی پوشیدہ ہے۔ شاعر کی محبت اب صرف محبوب تک محدود نہیں رہی بلکہ لوگوں کی زبانوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس کی چاہت کے قصے عام ہونے لگے ہیں، لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں، طنز بھی کرتے ہیں، محبوب کو احساس بھی دلاتے ہیں اور شاید اسے یہ باور بھی کراتے ہیں کہ ایک شخص تم پر اس حد تک فریفتہ ہے۔ شاعر اس صورتِ حال سے بھی واقف ہے، مگر وہ محبوب پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنا نہیں چاہتا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ چونکہ میں تم سے بے حد محبت کرتا ہوں، اس لیے تم بھی مجھ سے محبت کرنے کے پابند ہو۔ بلکہ وہ بڑے وقار سے یہ حقیقت تسلیم کرتا ہے کہ محبت دل کا معاملہ ہے، اسے زبردستی پیدا نہیں کیا جا سکتا۔

شاعر کے نزدیک محبت کا مطلب کسی پر حق جتانا یا اسے اپنی خواہش کے مطابق چلانے کی کوشش کرنا نہیں، بلکہ اس کی مرضی اور اس کے فیصلے کا احترام کرنا بھی ہے۔ وہ اپنے محبوب سے شکوہ ضرور کرتا ہے، لیکن اس کے اختیار کو کبھی چیلنج نہیں کرتا۔ یہی اس شعر کا سب سے خوبصورت پہلو ہے۔ شاعر گویا یہ پیغام دیتا ہے کہ مجھے تم سے محبت ہے، یہ میرے دل کا فیصلہ ہے، لیکن تم مجھے چاہو یا نہ چاہو، یہ تمہارے دل کا اختیار ہے۔ میں اپنی محبت سے انکار نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ میرے وجود کا حصہ بن چکی ہے، مگر میں تمہیں اس محبت کا پابند بھی نہیں بنا سکتا۔

اسی لیے شاعر آخر میں صرف ایک درخواست کرتا ہے کہ اگر تمہارے دل میں میرے لیے محبت نہیں رہی یا کبھی تھی ہی نہیں، تو مجھے دھوکے میں رکھنے کے بجائے صاف صاف بتا دو۔ کیونکہ سچ وقتی طور پر دل کو زخمی ضرور کرتا ہے، لیکن مسلسل امید اور بے رخی کے درمیان جینا اس سے کہیں زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔

شعر نمبر 2: محبت اور مشیتِ الہیٰ

رب توں منگی ضائع نئیں ویندی
منگ ڈیکھ دعا تیڈی جان چھٹے

اس شعر میں شاکر شجاع آبادی محبت کو صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے جڑا ہوا ایک احساس قرار دیتے ہیں۔ شاعر اپنے محبوب سے نہایت نرم لہجے میں مخاطب ہے۔ وہ اس سے کوئی شکوہ نہیں کرتا، نہ یہ کہتا ہے کہ تم نے میری محبت کی قدر نہیں کی، اور نہ ہی اس بات کا گلہ کرتا ہے کہ تمہارے دل میں میرے لیے وہ جذبات پیدا نہ ہو سکے جو میرے دل میں تمہارے لیے ہیں۔ بلکہ وہ بڑے اطمینان کے ساتھ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ محبت انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ دل کس کے لیے دھڑکے گا اور کس کی یاد میں بے چین ہوگا، یہ فیصلہ انسان نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے۔

شاعر گویا یہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر مجھے تم سے عشق ہوا ہے تو اس میں نہ میرا کوئی کمال ہے اور نہ تمہارا کوئی قصور۔ یہ وہ کیفیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں پیدا کی ہے۔ اسی لیے میں چاہ کر بھی تمہیں اپنے دل سے نکال نہیں سکتا۔ محبت کوئی ایسی چیز نہیں کہ انسان جب چاہے اسے اپنا لے اور جب چاہے اسے ختم کر دے۔ بعض احساسات انسان کی پوری ہستی پر اس طرح چھا جاتے ہیں کہ وہ اس کے وجود کا حصہ بن جاتے ہیں، اور پھر ان سے جدائی اختیار کرنا انسان کے اپنے بس میں نہیں رہتا۔

اسی احساس کے تحت شاعر ایک نہایت خوبصورت اور معنی خیز بات کہتا ہے۔ وہ محبوب سے مخاطب ہو کر گویا کہتا ہے کہ اگر تم واقعی چاہتے ہو کہ میری جان تم سے چھوٹ جائے، اگر تم یہ چاہتے ہو کہ میرے دل میں تمہاری محبت باقی نہ رہے، تو اس کا ایک ہی راستہ ہے۔ تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ میرے دل سے تمہارا نام مٹا دے، میری محبت کو ختم کر دے اور میرے دل کو اس آزمائش سے آزاد کر دے۔ کیونکہ یہ معاملہ میرے اختیار سے باہر ہے، میں اپنی کوشش سے اس محبت کو ختم نہیں کر سکتا۔

اس شعر میں شاعر کے ایمان کی جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ ایک سچے مسلمان کی طرح اس یقین کا اظہار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مانگی گئی کوئی بھی سچی دعا کبھی ضائع نہیں جاتی۔ قبولیت میں دیر ہو سکتی ہے، حالات بدلنے میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن اخلاص سے مانگی گئی دعا اللہ تعالیٰ کے ہاں ضرور پہنچتی ہے۔ یہی یقین شاعر کو یہ کہنے پر آمادہ کرتا ہے کہ اگر تم دل سے دعا کرو گے تو شاید اللہ تعالیٰ میری اس بے اختیار محبت کو ختم کر دے، کیونکہ جس رب نے یہ محبت میرے دل میں پیدا کی ہے، وہی اسے ختم کرنے پر بھی قادر ہے۔

اس شعر کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ شاعر اپنے محبوب پر کسی قسم کی ذمہ داری یا الزام نہیں ڈالتا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ تم میری محبت قبول کرو یا میرے جذبات کا جواب دو، بلکہ وہ یہ حقیقت مان لیتا ہے کہ ہر انسان اپنے دل کا مالک نہیں ہوتا۔ محبت اگر ایک دل میں پیدا ہو جائے تو ضروری نہیں کہ دوسرے دل میں بھی وہی کیفیت پیدا ہو۔ اسی لیے شاعر محبوب کی آزادی کا احترام کرتے ہوئے صرف اتنی گزارش کرتا ہے کہ اگر میری محبت تمہارے لیے باعثِ پریشانی ہے، تو اس مسئلے کا حل میرے پاس نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اسی سے دعا کرو، کیونکہ وہی دلوں کے حال جانتا ہے اور وہی دلوں کو بدلنے کی قدرت رکھتا ہے۔

شعر نمبر 3: محبت، جرم اور عاجزانہ التجا

تیکوں پیار کئتم تیڈا مجرم ہاں
ڈے سخت سزا تیڈی جان چھٹے

اس شعر میں شاکر شجاع آبادی اپنی محبت کا نہایت عاجزانہ انداز میں اعتراف کرتے ہیں۔ شاعر اپنے محبوب کے سامنے سرِ تسلیم خم کیے کھڑا ہے اور گویا کہہ رہا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک تم سے محبت کرنا ایک جرم ہے، تو میں اس جرم کا اعتراف کرتا ہوں۔ میں انکار نہیں کرتا کہ میں نے تمہیں بے حد چاہا ہے، تمہیں اپنی دعاؤں، اپنی خواہشوں اور اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہے۔ اگر یہی میری سب سے بڑی خطا ہے تو میں اسے چھپانے کے بجائے کھلے دل سے قبول کرتا ہوں۔

شاعر محبت کو کوئی شرمندگی کی بات نہیں سمجھتا، لیکن وہ محبوب کے جذبات کا بھی احترام کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ میری محبت کو ہر صورت قبول کیا جائے، بلکہ بڑے ادب سے عرض کرتا ہے کہ اگر میری چاہت نے تمہیں کسی قسم کی پریشانی، بے چینی یا تکلیف پہنچائی ہے، تو مجھے اس کی سزا دے دو۔ دنیا کے ہر قانون میں جب کوئی جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اس کے مطابق سزا بھی مقرر ہوتی ہے۔ شاعر اسی مثال کو محبت پر منطبق کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر میری محبت واقعی تمہارے نزدیک جرم ہے، تو پھر اس جرم کی بھی سخت سے سخت سزا سنا دو، مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

اس شعر میں ایک اور نہایت خوبصورت تصور بھی پوشیدہ ہے۔ شاعر یہ واضح کرتا ہے کہ میں اپنے آپ کو دنیا کا مجرم نہیں سمجھتا، نہ ان لوگوں کا جو میری محبت کی وجہ سے میرے مخالف ہو گئے ہیں، نہ ان کا جو میری چاہت پر طنز کرتے ہیں یا مجھے ملامت کرتے ہیں۔ میری نظر میں اس محبت کا اصل معاملہ صرف تم سے متعلق ہے۔ اس لیے اس مقدمے کے جج بھی تم ہی ہو، مدعی بھی تم ہو اور فیصلہ سنانے کا اختیار بھی تمہارے ہی پاس ہے۔ میں کسی اور کے فیصلے کو اہمیت نہیں دیتا، کیونکہ میری محبت کا تعلق صرف تم سے ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شاعر نہایت عاجزی اور التجا کے ساتھ محبوب سے مخاطب ہوتا ہے۔ وہ گویا کہتا ہے کہ اگر میری وجہ سے تمہارے سکون میں خلل آیا ہے، اگر میری محبت تمہارے لیے بوجھ بن گئی ہے، تو میں ہر سزا قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تم جو بھی فیصلہ کرو گے، میں اسے دل سے تسلیم کر لوں گا، کیونکہ میرے نزدیک تمہاری رضا اور تمہارا اطمینان میری اپنی خواہشات سے زیادہ اہم ہے۔ اس اندازِ بیان سے شاعر کی محبت کی سچائی بھی ظاہر ہوتی ہے اور اس کے کردار کی انکساری بھی۔

اس شعر کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ شاعر محبت کو کسی حق یا مطالبے کی صورت میں پیش نہیں کرتا بلکہ اسے اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ وہ یہ احساس دلاتا ہے کہ عاشق کا کام صرف محبت کرنا، محبوب کی خیر خواہی چاہنا اور اس کی خوشی کی دعا کرنا ہے، نہ کہ اسے تکلیف دینا یا اس پر اپنی محبت مسلط کرنا۔ اگر کبھی اس کی چاہت ہی محبوب کے لیے باعثِ اذیت بن جائے، تو پھر ایک سچا عاشق اپنے جذبات پر اصرار کرنے کے بجائے محبوب کی راحت کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر سزا مانگتا ہے، محبت کا صلہ نہیں۔ یہی جذبہ اس شعر کو عام عاشقانہ اظہار سے بلند کر کے ایثار، عاجزی اور بے لوث محبت کی ایک خوبصورت مثال بنا دیتا ہے۔

شعر نمبر 4: مقطع - اذیتوں کا آخری فیصلہ

ایویں مار نہ "شاکر" قسطاں وچ
یک مشت مکا تیڈی جان چھٹے

غزل کے اس مقطع میں شاکر شجاع آبادی اپنے دل کی آخری فریاد نہایت دردناک مگر باوقار انداز میں پیش کرتے ہیں۔ شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگر میرے حصے میں سزا ہی لکھی جا چکی ہے تو پھر مجھے یہ سزا قسطوں میں نہ دو۔ ہر روز کی بے رخی، ہر لمحے کی بے اعتنائی اور ہر نئی محرومی میرے لیے ایک نئی موت کے برابر ہے۔ میں اس اذیت کو مزید برداشت نہیں کر سکتا، اس لیے اگر فیصلہ کرنا ہی ہے تو ایک ہی بار ایسا فیصلہ کر دو کہ یہ داستان ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔

شاعر دراصل ان دکھوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی سچے عاشق کو ہر روز اندر ہی اندر توڑتے رہتے ہیں۔ محبوب کا بے رخی سے پیش آنا، کسی اور کو اہمیت دینا، یا اپنی محبت سے محروم رکھنا، یہ سب ایسے زخم ہیں جو جسم پر نہیں بلکہ دل پر لگتے ہیں۔ یہ وہ تکلیف ہے جو باہر سے نظر نہیں آتی، لیکن انسان کو خاموشی کے ساتھ اندر ہی اندر کھوکھلا کرتی رہتی ہے۔ شاعر گویا کہتا ہے کہ تمہاری ہر بے اعتنائی میرے دل پر ایک نئی چوٹ لگاتی ہے، اور میں روز روز اس درد کے ساتھ جینے کی طاقت کھو چکا ہوں۔

اس شعر میں شاعر حقیقت پسند بھی نظر آتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی محبت سچی ضرور ہے، لیکن ہر سچی محبت اپنی منزل تک نہیں پہنچتی۔ اسی لیے وہ خوابوں کی دنیا میں نہیں رہتا بلکہ حقیقت کو قبول کرتے ہوئے یہ مان لیتا ہے کہ شاید تم کبھی میرے نصیب میں نہیں ہو سکتے۔ لیکن اس حقیقت کو جان لینے کے باوجود اس کے دل سے تمہاری محبت ختم نہیں ہوتی، کیونکہ یہ محبت کسی وقتی جذبے کا نام نہیں بلکہ اس کی پوری زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔

اسی احساس کے تحت شاعر محبوب سے ایک ایسی درخواست کرتا ہے جو بظاہر سزا کا مطالبہ ہے، مگر حقیقت میں اس کے دل کی بے بسی کا اظہار ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میری محبت کا انجام جدائی ہی ہے، تو پھر مجھے روز روز تڑپا کر نہ مارو۔ مجھے ایسی سزا دے دو جس کے بعد یہ ساری اذیت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ وہ واقعی موت کا خواہش مند ہے، بلکہ وہ اپنے دل کی شدتِ درد کو ایک ادبی استعارے کے ذریعے بیان کرتا ہے کہ مسلسل بے رخی اور امید و محرومی کے درمیان جینا، ایک ہی بار کے صدمے سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔

یہ مقطع دراصل اس پوری غزل کا نچوڑ ہے۔ ابتدا میں شاعر نے محبوب کی آزادی کا احترام کیا، پھر اپنی محبت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت قرار دیا، اس کے بعد اپنے آپ کو محبت کا مجرم کہہ کر ہر سزا قبول کرنے کی آمادگی ظاہر کی، اور آخر میں وہ صرف اتنی درخواست کرتا ہے کہ اگر جدائی ہی مقدر ہے تو اسے آہستہ آہستہ اذیت دینے کے بجائے ایک ہی بار فیصلہ کر دیا جائے۔ یہی خودداری، اخلاص، بے لوث محبت اور دردِ دل اس غزل کو شاکر شجاع آبادی کی یادگار تخلیقات میں شامل کر دیتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments