نہ جسم تیڈا نہ جان تیڈی اے شاکر شجاع آبادی کی درد بھری شاعری |

میرا جسم میری مرضی: وہم یا حقیقت؟

شاکر شجاع آبادی کا کلام

نہ جسم تیڈا نہ جان تیڈی
اے ترکہ رب رحمان دا اے

اوندے حکم توں بغیر بے وس ہیں
اے فیصلہ پڑھ پاک قرآن دا اے

میڈا جسم میڈی مرضی اے
اے وہم گمان انسان دا اے

تیڈی روح ہے شاکر مالک دی
تیڈا ڈھانچہ قبرستان دا اے

کلام کا پس منظر اور فکری پیغام (تعارف)

اس غزل اور اس کے پیغام کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے خود شاعر کا پس منظر جاننا ضروری ہے۔ شاکر شجاع آبادی صاحب جسمانی طور پر ایک معذور انسان ہیں، جو چلنے پھرنے سے عاجز ہیں اور اپنی مرضی سے اٹھ بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ ظاہر ہے کہ وہ عام انسانوں کی طرح ظاہری عبادات (رکوع، سجود اور سفر) بھی اپنے بل بوتے پر ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ خوفِ خدا رکھنے والے ایک سچے اور باعمل مسلمان ہیں۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا انسان، جس کا اپنا جسم اس کا ساتھ نہیں دے رہا، وہ بستر پر بیٹھ کر دنیا کے تندرست انسانوں کو حیا، بندگی اور اطاعتِ الٰہی کا درس دے رہا ہے۔ وہ اپنے ٹوٹے ہوئے جسم کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کیے ہوئے ہے، جبکہ ایک تندرست انسان صحت اور طاقت کے نشے میں اندھا ہو کر "میرا جسم، میری مرضی" کا دعویٰ کر رہا ہے۔ یہی تضاد اس کلام کی اصل روح اور جان ہے۔

بے حیائی اور فحاشی دنیا میں شروع ہی سے موجود رہی ہے۔ زنا پہلے بھی تھا، لیکن آج کے اس پُرفتن دور میں یہ پہلے سے کہیں زیادہ عام ہو چکا ہے۔ دیکھا دیکھی کا دور ہے، اور فیشن کے نام پر برائی کو گلی کوچوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔ شراب، سود اور زنا پر واضح شرعی ممانعت ہونے کے باوجود یہ سب کچھ ہمارے معاشرے میں کھلے عام ہو رہا ہے۔

یہاں شاعر ایک نہایت اہم فکری نکتہ اٹھاتے ہیں۔ غیر مسلم تو غیر مسلم ہیں، جو اللہ تعالیٰ کو مانتے ہی نہیں، اس لیے ان پر اسلامی احکام اسی وقت لاگو ہوتے ہیں جب وہ دل سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوں۔ ان کے ہاں گناہ اور ثواب کا وہ تصور موجود نہیں جو اسلام میں ہے۔ لیکن شاکر صاحب ایک مسلمان کو مخاطب کرتے ہوئے تنبیہ کرتے ہیں کہ تم مسلمان ہو، تم نے کلمہ پڑھا ہے، اس لیے تم پر اللہ تعالیٰ کے احکامات نافذ ہوتے ہیں، اور تم اس وقت تک کامل مسلمان نہیں بن سکتے جب تک ان احکامات کی پابندی نہ کرو۔

ہمارے ہاں جزا و سزا کا قانون موجود ہے، اسلام میں بھی اور ہمارے ملک کے آئین میں بھی۔ اگر ریاست یا نظام کی کمزوری کی وجہ سے تم اپنے کسی جرم یا گناہ پر نہیں پکڑے جاتے، یا دنیاوی سزا سے بچ جاتے ہو، تب بھی تم یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ تم جو چاہو کرو، کیونکہ جان اور جسم تمہارا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ یہ جسم اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور اس پر حق بھی اسی کا ہے۔ اس لیے اس پر اسلام کے احکامات نافذ ہوتے ہیں کہ کیا کھانا ہے، کس چیز سے بچنا ہے، جسم کو کن لوگوں سے چھپانا ہے اور کن کے سامنے پردے کا اہتمام کرنا ہے۔

آج کل "حقوق اور آزادی" کے نام پر جو "عورت مارچ" نکالا جاتا ہے، جو ہر سال 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقد ہوتا ہے، اس میں بعض حیا سوز پلے کارڈز اٹھائے جاتے ہیں اور نیم برہنہ لباس کو ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ شاکر صاحب کی یہ غزل اس فکری گمراہی کے خلاف ایک کھلا چیلنج ہے۔ جب انسان خدا کے قانون کو پسِ پشت ڈال کر اپنے جسم کا خود کو مالک سمجھ بیٹھتا ہے، تو معاشرہ اس تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے، جہاں "میرا جسم، میری مرضی" کا نعرہ لگا کر مرد کا مرد کے ساتھ زنا (ہم جنس پرستی) اور معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی درندگی جیسے گھناؤنے جرائم جنم لیتے ہیں۔

دوسری طرف شاعر انسان کی "جان" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ جان بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے۔ تم اپنی مرضی کے مالک نہیں ہو کہ جب چاہو اپنی زندگی ختم کر لو، خودکشی کر لو، یا فیشن اور دکھاوے کی خاطر اپنے جسم پر ٹیٹو بنواؤ یا بلیڈ سے کٹس لگاؤ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس جسم کے ایک ایک حصے اور اس جان کا حساب لے گا۔

غزل کا متن اور تفصیلی تشریح

شعر نمبر 1

نہ جسم تیڈا نہ جان تیڈی، اے ترکہ ربِ رحمان دا اے

اردو ترجمہ: نہ یہ جسم تیرا ہے اور نہ یہ جان تیری ہے، یہ سب تو ربِ رحمان کی وراثت (اور امانت) ہے۔

جامع تشریح: شاکر شجاع آبادی غزل کے اسی پہلے شعر میں انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتے ہوئے ایک بہت بڑے فکری مغالطے کو دور کرتے ہیں۔ شاعر فرماتے ہیں کہ اے انسان! اگر تو مسلمان ہے تو تجھ پر اللہ تعالیٰ کے قوانین اور احکامات نافذ ہوتے ہیں، کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس میں زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں رہنمائی موجود ہے کہ بطورِ مسلمان ہمیں اپنی زندگی کس طرح گزارنی چاہیے۔ شاکر صاحب سب سے پہلے انسان کے جسم کی بات کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اے انسان! یہ جو تیرا وجود ہے، تو اسے اپنی من مرضی کے مطابق استعمال نہیں کر سکتا۔ تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو مرضی آئے کھاؤں، جو مرضی آئے پیوں، یا جو چاہوں کروں، خواہ وہ جائز ہو یا ناجائز۔ جب انسان دائرۂ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے تو اس پر شریعت کی پابندی لازم ہو جاتی ہے۔ اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے جسم کو حرام چیزوں سے بچائے اور صرف حلال پر اکتفا کرے۔ چونکہ اس جسم کا خالق اور حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے انسان اسے اپنی مرضی سے عیاشی، زنا، فحاشی یا کسی بھی گناہ میں استعمال نہیں کر سکتا۔ اسلام میں ان تمام کاموں کی نہ صرف سخت ممانعت ہے بلکہ ان کی سنگین سزائیں (حدود) بھی مقرر کی گئی ہیں۔ دوسرے مصرعے میں شاعر انسان کی جان (روح) کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تیرے جسم کے اندر موجود یہ روح، جس کی بدولت تو سانس لے رہا ہے اور زندہ ہے، یہ بھی تیری ملکیت نہیں بلکہ ربِ رحمان کی امانت ہے۔ انسان اپنی مرضی سے اس جان کو ختم نہیں کر سکتا۔ موت کا ایک وقت مقرر ہے، جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اس لیے اسلام میں خودکشی کو سخت ترین گناہ اور حرام قرار دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ احادیثِ مبارکہ سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خودکشی کرنے والے کا جنازہ خود نہیں پڑھایا، تاکہ امت اس گناہ کی سنگینی کو سمجھ سکے۔ انسان پر حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، وہ کسی بھی صورت اپنی زندگی کا خاتمہ نہیں کر سکتا، کیونکہ زندگی دینے اور واپس لینے کا اختیار صرف اللہ رب العزت کے پاس ہے۔ پس، یہ جسم اور جان اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، اور امانت میں اپنی مرضی چلانا سراسر خیانت ہے۔


شعر نمبر 2

اوندے حکم توں بغیر بے وس ہیں، اے فیصلہ پڑھ پاک قرآن دا اے

اردو ترجمہ: ہم اس (اللہ تعالیٰ) کے حکم کے بغیر بالکل بے بس ہیں۔ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ یہ تو پاک قرآن کا اٹل فیصلہ ہے۔

جامع تشریح: شاکر شجاع آبادی غزل کے دوسرے شعر میں انسانی عجز اور اللہ رب العزت کی کامل حاکمیت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتے ہوئے ہمیں ایک عظیم حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ شاعر فرماتے ہیں کہ اسلام محض چند عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل اور جامع نظامِ زندگی ہے۔ اسلام نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو اس قدر باریکی اور وضاحت سے بیان کر دیا ہے کہ حق کو سمجھنے میں کسی قسم کی کوئی کمی باقی نہیں چھوڑی، تاکہ انسان دین کو صحیح طور پر سمجھے اور اس پر عمل کر سکے۔ شاعر دراصل انسان کو اس کا دائرۂ اختیار یاد دلا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے انسان! تو زندگی کے کسی معاملے میں مکمل آزاد یا خود مختار نہیں، بلکہ اپنے خالق کے حکم کے سامنے سراسر بے بس ہے۔ ہمیں اپنی ازدواجی زندگی کیسے گزارنی ہے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیسے کرنا ہے، ہمسایوں کے کیا حقوق ہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کیا ہیں، بطورِ اولاد ہمارے فرائض کیا ہیں، بطورِ والدین ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، حتیٰ کہ معاشرتی اخلاقیات کی کیا اہمیت ہے اور ان پر عمل کیوں ضروری ہے، ان تمام معاملات کے لیے اللہ تعالیٰ نے واضح حدود مقرر کر دی ہیں اور ہمیں انہی احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے۔ شاعر اس حقیقت پر زور دینے کے لیے دوسرے مصرعے میں کلامِ الٰہی کی سند پیش کرتے ہیں کہ یہ اصول میرے بنائے ہوئے نہیں بلکہ "اے فیصلہ پڑھ پاک قرآن دا اے"۔ یعنی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے کلام میں واضح طور پر موجود ہے۔ قرآنِ پاک اللہ تعالیٰ کا وہ سچا کلام ہے جو آقا کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر تقریباً چودہ سو سال قبل نازل ہوا۔ چونکہ نبوت کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ پر مکمل ہو چکا ہے اور آپ ﷺ اس دنیا سے پردہ فرما چکے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں قیامت تک آنے والی انسانیت کی ہدایت کے لیے ہر بنیادی اصول واضح فرما دیا ہے، تاکہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں اور اس کے احکامات پر عمل کریں۔ یہ بھی قرآنِ پاک کا ایک عظیم معجزہ ہے کہ سابقہ انبیائے کرامؑ پر نازل ہونے والی بعض کتابوں میں لوگوں نے تحریف کر دی اور وہ اپنی اصل حالت میں باقی نہ رہ سکیں، لیکن قرآنِ مجید کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ کے زمانے سے لے کر قیامت تک اس کے ایک حرف، ایک نقطے، زیر یا زبر میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ آخر میں یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ قرآنِ پاک کی صرف تلاوت کرنا ہی باعثِ ثواب نہیں، بلکہ اس کا ترجمہ، تفسیر اور تشریح پڑھنا اور سمجھنا بھی بے حد ضروری ہے، تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کے پیغام کو صحیح معنوں میں سمجھ سکے، اس پر عمل کرے اور اپنی مرضی کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دے۔

شعر نمبر 3

میڈا جسم میڈی مرضی اے
اے وہم گمان انسان دا اے

اردو ترجمہ:
"میرا جسم، میری مرضی" کا یہ نعرہ درحقیقت انسان کا محض ایک جھوٹا وہم اور گمراہ کن گمان ہے۔

جامع تشریح:
شاکر شجاع آبادی صاحب اس تیسرے شعر میں اپنی شاعری کی نفاست اور کاٹ کو برقرار رکھتے ہوئے موجودہ دور کے سب سے بڑے اخلاقی بگاڑ، فیشن کے نام پر ہونے والی اندھی تقلید اور فحاشی کے بدترین پہلوؤں پر کاری ضرب لگاتے ہیں۔ یہ شعر اس غزل کی روح ہے، جس میں شاعر آج کے انسان کی اندھی نفسانی آزادی اور سرکشی کا پردہ چاک کرتے ہیں۔

آج کل "عورت مارچ" اور لبرل ازم کے نام پر ایک نعرہ سرِعام لگایا جاتا ہے کہ "میرا جسم، میری مرضی"۔ اس نعرے کے پیچھے چھپا ہوا خطرناک تصور یہ ہے کہ انسان، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، یہ سمجھتا ہے کہ یہ میرا جسم ہے، لہٰذا میں اس کے ساتھ جو چاہوں کروں اور جس سے چاہوں جنسی تسکین حاصل کروں، چاہے وہ محرم ہو یا نامحرم۔ شاعر اسی صورتِ حال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ آج اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں غیر مسلم تو ایک طرف، ہم مسلمان کہلا کر بھی وہ بدترین افعال کر رہے ہیں جنہیں سن کر غیرت مند انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں، کردار کے نہیں؛ کیونکہ کردار کا مسلمان بننے کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ احکامات کی پابندی کرنا شرط ہے۔

جب انسان "میرا جسم، میری مرضی" کہہ کر اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کو پامال کرتا ہے تو وہ حیوانیت کی آخری حدیں بھی عبور کر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج معاشرے میں مرد کا مرد کے ساتھ زنا (ہم جنس پرستی)، معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی درندگی، اور یہاں تک کہ جانوروں کے ساتھ بدفعلی جیسے گھناؤنے جرائم دیکھنے کو مل رہے ہیں، جن کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اسلام میں ان تمام خباثتوں کی نہ صرف سخت ترین ممانعت ہے بلکہ اسلامی شریعت میں زنا کے جرم پر حدود مقرر کی گئی ہیں۔

شاعر دوسرے مصرعے میں انسان کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اے وہم گمان انسان دا اے"۔ یعنی اے انسان! یہ تیری بہت بڑی گمراہی اور محض ایک وہم ہے کہ تو کلمۂ طیبہ پڑھ کر بھی ان اصولوں کو بھول گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ تو جس سے چاہے، جائز یا ناجائز طریقے سے اپنی خواہشات پوری کرتا رہے اور تجھے کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ یہ جسم تیرا نہیں ہے، اس لیے اس پر تیری مرضی بھی نہیں چل سکتی۔ اللہ تعالیٰ کا قانون اٹل ہے، اور اس کی حدود کو پامال کرنے والے کا انجام دنیا اور آخرت، دونوں میں انتہائی رسوا کن ہے۔

شعر نمبر 4 (مقطع)

تیڈی روح ہے شاکر مالک دی
تیڈا ڈھانچہ قبرستان دا اے

اردو ترجمہ:
اے شاکر! تیری یہ روح تو اصل مالک (اللہ تعالیٰ) کی ہے، جو آخرکار اسی کی بارگاہ میں لوٹ جائے گی، اور تیرا یہ جسم، جس پر تو اتنا اتراتا ہے، صرف قبرستان کا ایک بے جان ڈھانچہ ہے۔

جامع تشریح:
شاکر شجاع آبادی غزل کے اس آخری شعر میں پوری غزل کے فکری نچوڑ، اس کے بنیادی پیغام اور انسان کے تمام باطل دعوؤں کو ایک ہی نقطے پر سمیٹتے ہوئے انسان کی حقیقت اور اس کے انجام کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔ شاعر اس گہری گمراہی اور وہم کا پردہ چاک کرتے ہیں جس نے انسان کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔

آج کا انسان اس پُرفتن دور میں اپنے نفس کی خواہشات کے مطابق زندگی گزار رہا ہے۔ وہ وہی کچھ کرتا ہے جو اسے اچھا لگتا ہے اور جس کی طرف اس کا دل مائل ہوتا ہے۔ دنیا کی عارضی عیش و عشرت، مال و دولت، شہرت، اقتدار، جائیداد اور جاہ و منصب حاصل کرنے کی اندھی دوڑ میں وہ اس قدر مگن ہو چکا ہے کہ اسے حلال اور حرام کی تمیز بھی باقی نہیں رہی۔ ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے وہ دوسروں پر طرح طرح کے ظلم ڈھا رہا ہے۔ اقتدار، مرتبے اور دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کی خواہش میں اس نے اپنی عاقبت تک کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ اس کی کمائی کہاں سے آ رہی ہے اور اس کے ذرائع اسلامی احکامات کے مطابق ہیں یا نہیں۔ موجودہ دور کی سب سے نمایاں مثال سوشل میڈیا ہے، جہاں بہت سے لوگ پیسہ کمانے اور شہرت حاصل کرنے کی خاطر اپنی حیا، اخلاقیات اور اقدار تک قربان کر رہے ہیں۔ پھر دیکھا دیکھی کا رجحان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھ کر اسی راستے پر چل نکلتا ہے۔ شاکر صاحب انسان کی اس حالت پر نہ صرف شدید افسردہ ہیں بلکہ اسے اس انجام سے خبردار بھی کر رہے ہیں۔

شاعر آخر میں نہایت سخت انداز میں انسان کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے غافل انسان! تیرے اس دبدبے، مرتبے، دولت اور جاہ و حشمت کی کوئی دائمی حقیقت نہیں۔ تو اس دنیا میں جو چاہے کر لے، آخرکار تجھے اپنے حقیقی مالک کے حضور ہی حاضر ہونا ہے۔ موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ اگر وہ سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف کرنے اور اسے بخشنے پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ لیکن اگر انسان اپنی سرکشی پر قائم رہا تو یاد رکھے کہ موت کے بعد اس کی حقیقت صرف اتنی رہ جائے گی کہ اس کی روح اپنے اصل مالک کے حضور پیش کی جائے گی، جہاں اسے اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔ اور یہ جسم، جس کی خواہشات پوری کرنے کے لیے اس نے حلال و حرام کی تمام حدیں پامال کر دیں، اور جس پر اسے اتنا غرور تھا، وہ مٹی میں مل کر خاک ہو جائے گا۔ اس کا گوشت پوست گل سڑ جائے گا اور ہڈیاں بھی مٹی کا حصہ بن جائیں گی۔ یہ دنیا اتنی بے وفا ہے کہ بہت ہی کم عرصے میں لوگ انسان کو بھلا دیتے ہیں۔ پس، جب انجام صرف قبرستان کی مٹی میں مل جانا ہے، تو پھر انسان کا تکبر، غرور اور اپنی مرضی کا دعویٰ سراسر نادانی اور خسارے کا سودا ہے۔

Post a Comment

0 Comments