منہ پھیر کے دلبر لنگھ ونجنڑاں | کلامِ شاکر شجاع آبادی کی اردو تشریح از البیلا منڈا

کلامِ شاکر شجاع آبادی: مکمل غزل اور تشریح

غزل کا مکمل متن

منہ پھیر کے دلبر لنگھ ونجنڑاں
بے رحم اداواں ٹھیک تاں نئیں
میڈے جیندیاں کہیں دے نال ٹُریں
اے سخت سزاواں ٹھیک تاں نئیں
توں غیر توں پُچھ کے ہسدا ایں
میڈے روندیاں ہاہواں ٹھیک تاں نئیں
ہر گالھ چوں نفرت جھلکدی اے
بدلیاں ہوئیاں راہواں ٹھیک تاں نئیں
ہتھ اپنڑیں "شاکر" زِہر چا ڈے
غیر نال صلاحیں ٹھیک تاں نئیں

اشعار کی تشریح

کلامِ شاکر شجاع آبادی: مکمل غزل اور تشریح

غزل کا مکمل متن

منہ پھیر کے دلبر لنگھ ونجنڑاں
بے رحم اداواں ٹھیک تاں نئیں
میڈے جیندیاں کہیں دے نال ٹُریں
اے سخت سزاواں ٹھیک تاں نئیں
توں غیر توں پُچھ کے ہسدا ایں
میڈے روندیاں ہاہواں ٹھیک تاں نئیں
ہر گالھ چوں نفرت جھلکدی اے
بدلیاں ہوئیاں راہواں ٹھیک تاں نئیں
ہتھ اپنڑیں "شاکر" زِہر چا ڈے
غیر نال صلاحیں ٹھیک تاں نئیں

اشعار کی تشریح

شعر نمبر ۱:

منہ پھیر کے دلبر لنگھ ونجنڑاں
بے رحم اداواں ٹھیک تاں نئیں

شاعر اپنے محبوب کی ستم ظرفی اور بے رخی کا شکوہ اس سے اس طرح کر رہے ہیں کہ اے میرے محبوب، میرے جان و جگر! تم جانتے ہو کہ مجھے تم سے بے پناہ محبت ہے۔ میری دیوانگی کا عالم تو دیکھو، تیرے ہر ستم کے بدلے میں تم سے اس سے کہیں بڑھ کر پیار کرتا ہوں لیکن ایک تم ہو کہ میرے دکھوں میں مزید اضافہ کرتے رہتے ہو۔ تم جب بھی میرے پاس سے گزرتے ہو، بالکل ہی انجان بن کر گزر جاتے ہو۔ میری محبت کی تو بے شک قدر نہ کرو لیکن صرف ایک نظر دیکھ تو لو میری طرف۔ تیری ایک نگاہ تیری جدائی کے برسوں کے غم بھلا دیتی ہے۔ اے جانِ جاں! تم اتنے بھی بے رحم نہ بنو۔ تم کیا جانو تیری یہ ادا میرے دل کو کتنی تکلیف دیتی ہے، میرا جگر چھلنی چھلنی کر دیتی ہے اور دل ایسے دھڑکتا ہے جیسے ابھی کے ابھی موت آئی۔

شعر نمبر ۲:

میڈے جیندیاں کہیں دے نال ٹُریں
اے سخت سزاواں ٹھیک تاں نئیں

دوسرے شعر میں اپنے دردِ دل کا حال کیا خوب اپنے محبوب کو سناتا ہے کہ اے میرے محبوب! کیا تم میری محبت کا اندازہ لگا سکتے ہو؟ مجھے نہیں لگتا ہے۔ میں تم کو بتاتا ہوں کہ مجھے تیرے سوا کسی اور چیز کی چاہت نہیں ہے، تیرے دم سے تیرے وجود سے ہی تو میری روح کو سکون ملتا ہے۔ لیکن جب تم کو میں غیروں کے ساتھ دیکھتا ہوں، یقین جانو وہ لمحہ کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا ہے کیونکہ محبوب وہ ہستی ہے جسے صرف اور صرف عاشق اپنے سوا کسی کو دیکھنے تک کی اجازت نہیں دیتا، اور تم تو بانھوں میں بانھیں ڈال کر غیروں کے ساتھ سرِعام چلتے ہو۔ شاعر کہتا ہے: "تیڈے بغیر میں کیکوں ڈیکھاں، تو نظر آندا ہئیں بھانویں میں جیکوں ڈیکھاں"۔

شعر نمبر ۳:

توں غیر توں پُچھ کے ہسدا ایں
میڈے روندیاں ہاہواں ٹھیک تاں نئیں

شاعر شاکر شجاع آبادی غزل کے اس تیسرے شعر میں کیا ہی کمال شکوہ کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مانا کہ تم کو مجھ سے کوئی محبت نہیں ہے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں تیرے قابل نہ ہوں، لاکھوں عیب ہوں مجھ میں۔ یہ تو کسی کو چاہنا نہ چاہنا دل کی بات ہوتی ہے۔ مجھے تیری ادائیں نہ صرف پسند ہیں بلکہ میرے دل میں گھر کر گئی ہیں، میں ڈوب گیا تیرے عشق میں۔ لیکن میری اس محبت کا مذاق تو نہ اڑاؤ، یوں سرِعام اشارے میری طرف کر کے جملے تو نہ کسو۔ اے محبوب! تم ہنستے ہوئے مجھے بہت اچھے لگتے ہو لیکن یوں غیروں کے سامنے مجھے رسوا تو نہ کرو۔ اے میرے محبوب! میں بتاؤں تم کو جب تم ایسا کرتے ہو تو مجھے کتنا دکھ ہوتا ہے؟ میں اپنا منہ اپنی دونوں بانہوں کو اکٹھا کر کے، سر کو نیچے کیے گھنٹوں روتا رہتا ہوں، میرے غم کی شدت اور بھی بڑھتی جاتی ہے۔

شعر نمبر ۴:

ہر گالھ چوں نفرت جھلکدی اے
بدلیاں ہوئیاں راہواں ٹھیک تاں نئیں

شاعر غزل کے اس چوتھے شعر میں پہلے سے ہٹ کر ایک منفرد شکوہ زن ہیں اپنے محبوب سے کہ اے میرے محبوب! تیرا ہر بات پر مجھ سے نفرت کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ مجھ میں لاکھوں عیب سہی لیکن میری محبت ایک ڈھونگ نہیں ہے۔ تیرا یہ اندازہ بالکل غلط ہے کہ مجھے تیری شان و شوکت، روپیہ پیسہ اور جائیداد سے محبت ہے۔ لوگ غلط کہتے ہیں کہ مجھے تم سے محبت نہیں اور یہ سب میں تجھے دنیا میں بدنام کرنے کے لیے کر رہا ہوں، تیرا اس طرح سوچنا ٹھیک نہیں ہے۔ اور یہی سوچ کر تم اکثر اپنا راستہ بدل دیتے ہو کہ میں راستے میں اسی نیت سے کھڑا ہوں۔ اے میرے محبوب! تم کیا جانو کہ مجھے تجھ سے کس قدر محبت ہے، اگر ممکن ہوتا تو میں تجھے اپنا دل چیر کے دکھاتا کہ دیکھو اس میں تیری محبت کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مقطع (شعر نمبر ۵):

ہتھ اپنڑیں "شاکر" زِہر چا ڈے
غیر نال صلاحیں ٹھیک تاں نئیں

شاعر غزل کے آخری شعر میں نہایت ہی افسردگی اور غم زدہ شکایت کے ساتھ محبوب سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ اے میرے محبوب! اگر تمہیں مجھ سے اتنی نفرت ہے، میرا یوں تیرے دیدار کی خاطر تیرے راستے میں کھڑا ہونا، تیری اک نظر دیکھنے کی بے تابی کی وجہ سے ادھر ادھر بھٹکنا برا لگتا ہے— میں تو تیری محبت کی وجہ سے دیوانہ ہوں— لیکن پھر بھی اگر یہ تیری عزت، تیرے مرتبے اور تیرے جاہ و جلال پر تجھے حرف لگتا ہے، تو بے شک مجھے اپنے ہاتھوں سے زہر دے دے۔ یوں غیروں سے مجھے مارنے کے مشورے نہ کر۔ مجھے تیرے ہاتھوں مرنا زیادہ پسند ہے اور یہ سکون دہ موت ہوگی۔ شاعر کہتا ہے کہ اس محبت نے مجھے تو اس قدر دیوانہ کر دیا ہے کہ مجھے خود ہوش نہیں رہتا کہ میں کہاں ہوں، کیا کھانا کیا پینا۔ تجھے بھول جانا اب میرے لیے ممکن نہیں ہے۔

7 اہم سوالات و جوابات

1. سوال: اس غزل میں شاعر نے محبوب سے کیا بڑا شکوہ کیا ہے؟
جواب: محبوب کی بے رخی، بے اعتنائی اور غیروں کے ساتھ میل جول کا شکوہ کیا ہے۔

2. سوال: "بے رحم اداواں" سے کیا مراد ہے؟
جواب: محبوب کا عاشق کو دیکھ کر منہ پھیر لینا اور انجان بن کر گزر جانا۔

3. سوال: شاعر کے نزدیک سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ کون سا ہے؟
جواب: جب محبوب غیروں کے ساتھ دکھائی دے یا ان سے مشورے کرے۔

4. سوال: شاعر غیروں سے مارنے کے مشورے پر کیا ردعمل دیتے ہیں؟
جواب: وہ کہتے ہیں کہ غیروں سے مشورہ کرنے کے بجائے مجھے اپنے ہاتھ سے زہر دے دو۔

5. سوال: کیا یہ غزل صرف محبوب کی بے رخی کے بارے میں ہے؟
جواب: جی ہاں، یہ شاکر شجاع آبادی کا ایک خالص جذباتی اور عشقیہ کلام ہے جو محبت میں ملنے والی سزاؤں پر مبنی ہے۔

6. سوال: "بدلیاں ہوئیاں راہواں" سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب: محبوب کا شک و شبہ کی بنیاد پر راستہ بدل لینا اور عاشق پر غلط الزامات لگانا۔

7. سوال: اس غزل کا مرکزی جذبہ کیا ہے؟
جواب: محبت میں ملنے والی اذیت اور محبوب کی توجہ حاصل کرنے کی شدید خواہش۔

اہم سوالات و جوابات

1. سوال: اس غزل میں شاعر نے محبوب سے کیا بڑا شکوہ کیا ہے؟
جواب: محبوب کی بے رخی، بے اعتنائی اور غیروں کے ساتھ میل جول کا شکوہ کیا ہے۔

2. سوال: "بے رحم اداواں" سے کیا مراد ہے؟
جواب: محبوب کا عاشق کو دیکھ کر منہ پھیر لینا اور انجان بن کر گزر جانا۔

3. سوال: شاعر کے نزدیک سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ کون سا ہے؟
جواب: جب محبوب غیروں کے ساتھ دکھائی دے یا ان سے مشورے کرے۔

4. سوال: شاعر غیروں سے مارنے کے مشورے پر کیا ردعمل دیتے ہیں؟
جواب: وہ کہتے ہیں کہ غیروں سے مشورہ کرنے کے بجائے مجھے اپنے ہاتھ سے زہر دے دو۔

5. سوال: کیا یہ غزل صرف محبوب کی بے رخی کے بارے میں ہے؟
جواب: جی ہاں، یہ شاکر شجاع آبادی کا ایک خالص جذباتی اور عشقیہ کلام ہے جو محبت میں ملنے والی سزاؤں پر مبنی ہے۔

6. سوال: "بدلیاں ہوئیاں راہواں" سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب: محبوب کا شک و شبہ کی بنیاد پر راستہ بدل لینا اور عاشق پر غلط الزامات لگانا۔

7. سوال: اس غزل کا مرکزی جذبہ کیا ہے؟
جواب: محبت میں ملنے والی اذیت اور محبوب کی توجہ حاصل کرنے کی شدید خواہش۔

Post a Comment

0 Comments