آلِ رسول کی قربانیاں: دینِ اسلام ہم تک کیسے پہنچا؟ جناب یعقوب نادان صاحب کا کلام
تعارفِ کلام و شاعر
سرائیکی وسیب کے معروف علمی و روحانی گھرانے کے چشم و چراغ، جناب یعقوب نادان صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ کا کلام محض شاعری نہیں بلکہ دلوں کو جھنجھوڑنے والی ایک علمی دعوتِ فکر ہے۔ آج 8 محرم الحرام کی مناسبت سے، ہم آپ کا یہ کلام پیش کر رہے ہیں جو ہمیں ہماری اصل شناخت اور اس عظیم قرض کو یاد دلاتا ہے جو ہم پر اسلام اور اہلِ بیتِ اطہارؓ کی صورت میں واجب ہے۔
نوٹ: اس کلام کی تشریح "البیلہ منڈا" (Albela Munda) کی جانب سے خصوصی طور پر تحریر کی گئی ہے، جس میں شاعر کے ہر شعر کے پیچھے پوشیدہ تاریخی واقعات اور ان کے اشارات کو آسان فہم انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کلام
تیکوں مل کلمہ مفت دے وچ
ایں تے خرچ نبی دی آل دا تھئے
جیہڑے پاک قرآن کوں نت پڑھدیں
اے دین علی دے لعل دا تھئے
جیہڑا فیض ملیے تیکوں پردے دا
اے سفراں دی بھائیوال دا تھئے
نویں شکل نادان پھئٹی
اے کرم نبی لجپال دا تھئے
تعارف
اس خوبصورت سرائیکی کلام میں شاعر انسان کو دینِ اسلام کی عظیم نعمت، قرآنِ پاک کی برکت، اہلِ بیتِ اطہارؓ کی قربانیوں اور نبی کریم ﷺ کے بے مثال کرم کی یاد دلاتا ہے۔ شاعر کا پیغام یہ ہے کہ جو نعمتیں آج ہمیں آسانی سے میسر ہیں، ان کے پیچھے عظیم ہستیوں کی قربانیاں، صبر، استقامت اور جدوجہد شامل ہے۔
شاعر انسان کو غفلت سے جگاتے ہوئے یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ دین، ایمان، قرآن اور عزت و وقار جیسی نعمتیں ہمیں یوں ہی نہیں مل گئیں بلکہ ان کے لیے بے شمار قربانیاں دی گئی ہیں۔ اس لیے ہمیں ان نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
شعر نمبر 1
تیکوں مل کلمہ مفت دے وچ
این تے خرچ نبی دی آل دا تھئے
شاعر اس شعر میں انسان کو اسلام کی سب سے بڑی نعمت یعنی کلمۂ طیبہ کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آج تجھے کلمہ اور دینِ اسلام آسانی سے نصیب ہو گیا ہے، لیکن اس کے حصول کے پیچھے ایک طویل تاریخِ قربانی موجود ہے۔
ابتدائی دورِ اسلام میں دین یوں ہی نہیں پھیلا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اسلام کی تبلیغ کے دوران بے شمار تکالیف برداشت کیں۔ کفار نے آپ ﷺ پر ظلم کیے، آپ ﷺ کو پتھر مارے گئے، طائف میں لہولہان کیا گیا، آپ ﷺ اور آپ کے جانثار ساتھیوں نے بھوک، پیاس، ہجرت اور سماجی بائیکاٹ جیسی سخت آزمائشوں کا سامنا کیا۔
وقت گزرتا گیا اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے گئے، لیکن تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب حق اور باطل کا معرکہ اپنے عروج پر تھا۔ ایسے نازک دور میں امام حسینؓ اور اہلِ بیتؓ نے عظیم قربانی پیش کی۔ واقعۂ کربلا نے اسلام کی حقیقی روح، حق، انصاف اور اصولوں کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
شاعر اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آج جو دین اور کلمہ ہمیں آسانی سے نصیب ہے، اس کے پیچھے نبی کریم ﷺ، صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ کی عظیم قربانیاں شامل ہیں۔
شعر نمبر 2
جیہڑے پاک قرآن کوں نت پڑھدیں
اے دین علی دے لعل دا تھئے
اس شعر میں شاعر قرآنِ پاک اور دینِ اسلام کی عظمت بیان کرتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ جس قرآنِ پاک کی آج تم تلاوت کرتے ہو، وہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا کلام، مکمل ضابطۂ حیات اور انسانیت کے لیے باعثِ رحمت ہے۔ قرآن پڑھنا گویا اللہ تعالیٰ کے پیغام کو سمجھنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
یہ دین اور قرآن اگرچہ نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا، لیکن اس کی حفاظت، اشاعت اور سربلندی کے لیے اہلِ بیتِ اطہارؓ، صحابہ کرامؓ اور دیگر عظیم شخصیات نے بے مثال کردار ادا کیا۔
شاعر بالخصوص اہلِ بیتؓ کی قربانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ احساس دلاتا ہے کہ دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے جو قربانیاں دی گئیں، وہ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ انہی قربانیوں کی بدولت آج بھی قرآنِ پاک اپنی اصل شکل میں محفوظ ہے اور مسلمانوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔
شعر نمبر 3
جیہڑا فیض ملیے تیکوں پردے دا
اے سفراں دی بھائیوال دا تھئے
اس شعر میں شاعر اسلام کے عطا کردہ عزت، وقار اور پردے کے تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اسلام سے قبل عرب معاشرے میں عورت کی حیثیت انتہائی کمزور سمجھی جاتی تھی۔ بعض لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے اور عورت کو بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں تھے۔ اسلام نے آ کر عورت کو عزت، احترام، وراثت، تعلیم اور معاشرتی مقام عطا کیا۔
پردہ بھی انہی اسلامی تعلیمات میں شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے ذریعے انسانیت کو عطا فرمائیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر آج تمہیں عزت، حیا اور پردے کی نعمت نصیب ہے تو یہ دینِ اسلام کا فیض ہے۔
اسی ضمن میں شاعر اہلِ بیتؓ خصوصاً حضرت زینبؓ کے کردار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کربلا کے بعد جن صبر، استقامت، وقار اور عظمت کے ساتھ حضرت زینبؓ نے حالات کا سامنا کیا، وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ انہوں نے ہر آزمائش کے باوجود دین اور حق کے پیغام کو دنیا تک پہنچایا۔
شاعر گویا یہ بتانا چاہتا ہے کہ آج ہمیں جو حیا، وقار اور پردے کی تعلیمات میسر ہیں، ان کے پیچھے بھی عظیم ہستیوں کی جدوجہد اور قربانیاں شامل ہیں۔
شعر نمبر 4
نویں شکل نادان پھئٹی
اے کرم نبی لجپال دا تھئے
اس آخری شعر میں شاعر انسان کو عاجزی اور شکرگزاری کا درس دیتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ اے نادان انسان! اگر آج تیرے عیب اور گناہ فوراً ظاہر نہیں ہوتے اور اللہ تعالیٰ نے تیرے عیوب پر پردہ ڈال رکھا ہے تو یہ اس کا فضل اور نبی کریم ﷺ کی امت پر خصوصی رحمت ہے۔
قرآنِ پاک میں بعض سابقہ قوموں کا ذکر ملتا ہے جن پر ان کے اعمال کی وجہ سے سخت عذاب نازل ہوا، لیکن اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ پر خاص رحمت فرمائی ہے اور بندوں کو توبہ، اصلاح اور رجوع کا موقع عطا کیا ہے۔
شاعر اس شعر میں انسان کو غرور سے بچاتے ہوئے یہ احساس دلاتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے عیبوں پر پردہ ڈالے ہوئے ہے اور ہمیں سنبھلنے کا موقع دے رہا ہے تو یہ محض اس کا فضل اور نبی کریم ﷺ کی نسبت کی برکت ہے۔
لہٰذا انسان کو اپنی نیکیوں پر فخر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرتے رہنا چاہیے ۔
مرکزی خیال
اس کلام میں شاعر انسان کو دینِ اسلام، کلمۂ طیبہ، قرآنِ پاک، اہلِ بیتِ اطہارؓ کی قربانیوں اور نبی کریم ﷺ کی رحمت و شفقت کا احساس دلاتا ہے۔
شاعر کا پیغام یہ ہے کہ جو نعمتیں آج ہمیں آسانی سے حاصل ہیں، ان کے پیچھے عظیم قربانیاں پوشیدہ ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے دین، ایمان، قرآن اور اسلامی تعلیمات کی قدر کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ان عظیم ہستیوں کی خدمات کو یاد رکھنا چاہیے جن کی بدولت یہ نعمتیں ہم تک پہنچیں۔
8 اہم سوالات و جوابات
- سوال: اس کلام کے شاعر کون ہیں؟
- جواب: اس کلام کے خالق یعقوب نادان صاحب ہیں۔
- سوال: کلمہ مفت ملنے سے کیا مراد ہے؟
- جواب: یہ کہ ہمیں دین تو آسانی سے مل گیا مگر اس کی قیمت اہلِ بیتؓ نے اپنی جانیں دے کر چکائی ہے۔
- سوال: "علی دے لعل" سے کون سی ہستی مراد ہے؟
- جواب: اس سے مراد سیدنا امام حسینؓ ہیں۔
- سوال: پردے اور سفراں کی بھائیوال کا اشارہ کس طرف ہے؟
- جواب: اس کا اشارہ سیدہ زینبؓ کے کربلا کے بعد کے دردناک اور باوقار سفرِ اسیری کی طرف ہے۔
- سوال: کیا یہ تشریح کسی کتاب سے لی گئی ہے؟
- جواب: جی نہیں، یہ "البیلہ منڈا" کی اپنی فکری کاوش ہے جو کلام کے اشارات کو سمجھ کر لکھی گئی ہے۔
- سوال: اس کلام کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
- جواب: اہلِ بیتِ اطہارؓ کی قربانیوں کا احساس اور ان کے مشن کی قدر کرنا۔
- سوال: "نویں شکل نادان پھٹ" سے کیا اشارہ ہے؟
- جواب: یہ اللہ کی ستار العیوبی اور نبی کریم ﷺ کی امت پر رحمت کا ذکر ہے۔
- سوال: یہ کلام آج کے دن (8 محرم) کیوں اہم ہے؟ جواب: کیونکہ یہ ہمیں کربلا کے عظیم مقصد اور اہلِ بیتؓ کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔
0 Comments