سرائیکی غزل | ہک تیر لگا سینے وچ – شاکر شجاع آبادی
اصل سرائیکی غزل
ہک تیر لگا سینے وچکوئی خبر نہ ہئیی جو کہئیں ماریےمیڈے سنگتیاں آکھیے پکڑ گھنوںاوں ظالم کوں ایے جئیں مارئیہمیڈے سامنڑے غیر جو گزرئیے ہنمیں آکھیا اے انھیں مارئیہاتوں چن "شاکر" دا پہنچ گیا
بڑا فخریج تے آہدے میں مارئیہ اے
اردو شاعری (ترجمہ)
ایک تیر لگا سینے میںکچھ خبر نہ ہوئی کہ کس نے مارامیرے دوستوں نے کہا، پکڑ لواسی ظالم کو جس نے یہ وار کیامیرے سامنے جو غیر گزرےمیں نے کہا، انہی نے مجھے مارااتنے میں شاکرؔ کا چن بھی آ پہنچافخر سے بولا، یہ تیر میں نے مارا
غزل کا مفہوم (تشریح)
شاکر شجاع آبادی: المیہِ حیات اور اپنوں کی ستم ظریفی
سرائیکی ادب کے مایہ ناز شاعر شاکر شجاع آبادی کی زندگی محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ دکھوں کی ایک ایسی داستان ہے جو سننے والوں کی روح تک کو تڑپا دیتی ہے۔ ان کی یہ غزل ان کے داخلی کرب اور انسانی رویوں کی تلخ حقیقتوں کا آئینہ دار ہے۔
ایک دردناک ملاقات اور المیہ کا پس منظر
شاکر شجاع آبادی اپنی بپتا سناتے ہوئے ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک طویل عرصے کے بعد ان کا ایک پرانا دوست ان سے ملنے آیا۔ وہ دوست جو شاکر کو ان کی جوانی، صحت اور خوشحالی کے دنوں میں جانتا تھا، شاکر کی موجودہ خستہ حالی دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ اس نے حیرت اور دکھ کے ملے جلے جذبات کے ساتھ پوچھا:
"یار شاکر! تم نے اپنی یہ کیا حالت بنا لی ہے؟ تم تو وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہو چکے ہو۔ تمہارے چہرے کی وہ پہلے والی رونق اور شادابی کہاں گئی؟ آخر اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟"
اس سوال نے شاکر کے پرانے زخموں کو کرید دیا اور انہوں نے اپنی زندگی کی پوری کہانی کو اس غزل کے پیرائے میں کچھ اس طرح پیش کیا:
اشعار کی مفصل اور ادبی تشریح
1۔ بے خبری کا زخم اور اچانک افتاد
ہک تیر لگا وچ سینے دے،
کئیں خبر نہ ہئی جو کئیں مارئیے
شاکر اپنے دوست سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے میرے عزیز! میں تجھے اپنی غم بھری داستان کیا سناؤں؟ ایک وقت تھا جب میری زندگی خوشحالی کا نمونہ تھی۔ مجھے کسی چیز کی کوئی کمی نہ تھی؛ دولت، شہرت، رتبہ اور لوگوں میں میرا ایک نایاب مقام تھا۔ لیکن پھر اچانک حالات نے ایسی پلٹی کھائی کہ مجھے ایک زوردار جھٹکا لگا۔ ایک ایسی پریشانی نے مجھے آ گھیرا جیسے کسی نے اندھیرے میں میرے سینے پر تیر مارا ہو۔ اس وقت میری عقل معطل ہو گئی، مجھے کچھ سمجھ نہ آیا کہ آخر یہ ہوا کیا ہے اور اس خنجر کو میرے سینے میں اتارنے والا ہاتھ کس کا ہے؟
2۔ مخلص ساتھیوں کا ردِ عمل اور انتقام کی آگ
میڈے سنگتاں آکھیا پکڑ گھنو،
اوں ظالم کوں ایہ جیں مارئیے
میری یہ حالتِ زار دیکھ کر میرے دوست اور خیر خواہ بھی تڑپ اٹھے۔ ان کے لیے میرا یہ حال ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ جذبات میں آ گئے اور ایک دوسرے سے صلاح و مشورہ کرنے لگے کہ ڈھونڈو اس ظالم کو جس نے ایسے شفیق انسان کا دل دکھایا ہے۔ وہ لوگ جو جانتے تھے کہ میں نے ہمیشہ دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا اور کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی، وہ اس بات پر بضد تھے کہ جس نے بھی شاکر کو یہ اذیت پہنچائی ہے، اب اس کی خیر نہیں۔ ہم اس سے نمٹ کر دم لیں گے اور اسے کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔
3۔ شک کی سوئی اور دشمنوں کا گمان
میڈے سامنڑے غیر جو گزرے ہن،
میں آکھے یار انہیں ماریئے
شاعر مزید گہرائی میں جاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میرے سامنے سے وہ لوگ گزرے جن سے میرے تعلقات اچھے نہ تھے، تو میرا خیال تھا کہ شاید یہ میرے ان دشمنوں کی چال ہے جو میری معاشرتی عزت، میری جاگیر اور میری خوشحالی سے جلتے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہو گیا تھا کہ یہ کام ان "غیروں" کا ہی ہو سکتا ہے کیونکہ میں نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا تھا۔ میں نے تو ہمیشہ اپنی رعایا کے ساتھ انصاف کیا، مظلوم کا ساتھ دیا اور ظالم کو عبرت ناک سزا دلوائی۔ مجھے لگا کہ شاید میرے اسی عدل و انصاف کی وجہ سے وہ لوگ میرے مخالف ہو گئے اور انہوں نے مجھے یہ نقصان پہنچایا ہے۔
4۔ حقیقت کا ہولناک انکشاف: جب محافظ ہی قاتل نکلا
اُتوں چن شاکر دا پہنچ گیا،
فخریج تے آہدے میں ماریئے
یہاں کہانی ایک ایسا موڑ لیتی ہے کہ سننے والے ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔ شاکر بتاتے ہیں کہ جب ہر طرف چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں، کوئی اسے تقدیر کا فیصلہ کہہ رہا تھا اور کوئی کسی خاص گروہ پر شک کر رہا تھا، تو وہ شخص جو اس پورے واقعے کا اصل ذمہ دار تھا، وہ مجمع میں خاموشی سے سب کی باتیں سنتا رہا۔ جب اس نے دیکھا کہ لوگ شاکر کے دشمنوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور برا بھلا کہہ رہے ہیں، تو اس سے رہا نہ گیا اور وہ غصے و تکبر سے پھٹ پڑا۔
وہ شخص جو شاکر کا سب سے قریبی تھا، جس پر شاکر کو اندھا اعتماد تھا اور جسے وہ اپنا جانشین سمجھتا تھا، وہ بھرے مجمع میں فخریہ انداز میں کھڑا ہوا اور گرج کر بولا: "میں ہوں اس کا ذمہ دار! کیا کر لو گے؟ آؤ مجھ سے لڑو جس نے لڑنا ہے!"
یہ سنتے ہی ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ ہر چہرہ حیرت سے پتھرا گیا کہ وار کرنے والا کوئی غیر نہیں بلکہ وہ "چن" (پیارا) تھا جس پر شاکر کو ناز تھا۔ اس مقام پر شاکر نے کسی ردِ عمل کے بجائے خاموشی اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی، کیونکہ اپنوں کے دیے ہوئے زخموں کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔
🔗 فیس بک لنک:
Albela Munda Facebook Page
0 Comments