سرائیکی غزل | ہک تیر لگا سینے وچ – شاکر شجاع آبادی

سرائیکی غزل | ہک تیر لگا سینے وچ – شاکر شجاع آبادی

زبان: سرائیکی | اردو
شاعر: شاکر شجاع آبادی
موضوع: محبت، فخر، دھوکہ، درد


اصل سرائیکی غزل

ہک تیر لگا سینے وچ
کوئی خبر نہ ہئیی جو کہئیں ماریے

میڈے سنگتیاں آکھیے پکڑ گھنوں
اوں ظالم کوں ایے جئیں مارئیہ

میڈے سامنڑے غیر جو گزرئیے ہن
میں آکھیا اے انھیں مارئیہ

اتوں چن "شاکر" دا پہنچ گیا
بڑا فخریج تے آہدے میں مارئیہ اے


اردو شاعری (ترجمہ)

ایک تیر لگا سینے میں
کچھ خبر نہ ہوئی کہ کس نے مارا

میرے دوستوں نے کہا، پکڑ لو
اسی ظالم کو جس نے یہ وار کیا

میرے سامنے جو غیر گزرے
میں نے کہا، انہی نے مجھے مارا

اتنے میں شاکرؔ کا چن بھی آ پہنچا
فخر سے بولا، یہ تیر میں نے مارا


غزل کا مفہوم (تشریح)

یہ غزل انسانی زندگی کے اس کرب کو بیان کرتی ہے جہاں زخم تو لگتا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وار کس نے کیا۔ شاعر پہلے الزام دوسروں پر رکھتا ہے، مگر آخر میں محبوب یا قریبی شخص خود فخر سے اعتراف کرتا ہے کہ یہی زخم اسی کا دیا ہوا ہے۔

یہ کلام محبت میں دھوکے، اعتماد کے ٹوٹنے اور روحانی اذیت کی گہری تصویر پیش کرتا ہے۔


سرائیکی زبان اور ثقافت

شاکر شجاع آبادی سرائیکی زبان کے عظیم شاعر ہیں جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعے وسیب کے دکھ، انسانی درد اور سچی محبت کو امر کر دیا۔


مزید بہترین سرائیکی شاعری کے لیے

📌 ہماری فیس بک پیج Albela Munda کو فالو کریں
📌 سرائیکی شاعری اردو، انگریزی اور دیگر زبانوں میں پڑھیں

🔗 فیس بک لنک:
Albela Munda Facebook Page


Post a Comment

0 Comments