شاکر شجاع آبادی: میڈے دل دی سنج حویلی (عالمی تراجم)
Explore the profound wisdom of Shakir Shuja Abadi. This masterpiece, "Mede Dil Di Sanj Haveli", is presented here with professional translations in Urdu, English, Hindi, Arabic, Farsi, Chinese, Pashto, and Sindhi to connect the world with Saraiki literature.
1. سرائیکی (اصل کلام)
میڈے دل دی سنج حویلی کوں
توں اج وی ڈھول وسا سگدیں
میڈی رس گئی مست جوانی دی
انمول بہار کوں ولا سگدیں
تونڑیں لکھ پہرے وی ہون
پر جے دل ہووی تاں آسگدیں
جیڑھے ودن پھوت بنڑائی شاکر
انھاں غیراں دا سر جھکا سگدیں
2. اردو ترجمہ (Urdu Poetry)
میرے دل کی ویران حویلی کو
تو آج بھی محبوب بسا سکتا ہے
میری روٹھی مست جوانی کی
انمول بہار کو لا سکتا ہے
توڑے لاکھ پہرے ہی کیوں نہ ہوں
گر چاہے دل تو آ سکتا ہے
جو بنے پھرتے ہیں فخر شاکر
ان غیروں کا سر جھکا سکتا ہے
کلام کی تشریح اور ادبی اہمیت (Detailed Urdu Commentary)
۱. دل کی ویرانی اور محبوب کی اہمیت
شاکر شجاع آبادی اس شعر میں انسانی دل کو ایک "سنج حویلی" یعنی ویران حویلی سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب کے بغیر زندگی کسی اجاڑ مکان جیسی ہے، لیکن محبوب کے پاس وہ طاقت ہے کہ وہ جب چاہے اپنی توجہ سے اس اجاڑ دل کو دوبارہ آباد کر سکتا ہے۔ یہ انسانی امید کی انتہا ہے۔
۲. جوانی کی بہار اور واپسی کا تصور
شاعر اپنی گزری ہوئی عمر اور "مست جوانی" کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وقت تو گزر گیا، لیکن اگر محبوب کا ساتھ میسر ہو تو وہ انمول خوشیاں اور جوانی کی امنگیں دوبارہ لوٹ سکتی ہیں۔ یہاں محبوب کو خوشیوں کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔
۳. ارادے کی پختگی اور رکاوٹیں
دنیاوی پہرے، رسم و رواج اور دشمنوں کی رکاوٹیں اس وقت ہیچ (معمولی) ہو جاتی ہیں جب انسان کا دل سچا ہو۔ شاکر صاحب کہتے ہیں کہ اگر دل میں سچی تڑپ ہو تو کوئی بھی دیوار یا پہرہ محبوب کو آنے سے نہیں روک سکتا۔
۴. دشمنوں کی شکست (عجز و انکساری)
آخری شعر میں "پھوت" (غرور اور تکبر) کا ذکر ہے۔ وہ لوگ جو اپنی طاقت یا دولت کے نشے میں غیروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، شاعر کے مطابق محبوب کی ایک نظر یا سچی محبت ان مغرور لوگوں کا سر جھکا سکتی ہے۔ یہ حق کی باطل پر جیت کا استعارہ ہے۔
3. English Poetic Translation
In my heart's desolate mansion, my love
You can still dwell today
The lost, priceless spring of my youth
You can bring back its ray
Even if millions of guards stand watch
You can come if you please
Those who walk with pride, O Shakir
You can bring them to their knees
4. الترجمة العربية (Arabic Style)
في قصر قلبي المهجور يا حبيبي
لا تزال تستطيع السكن اليوم
ربيع شبابي الغالي المفقود
أنت من يعيده من وسط الغيوم
حتى لو كان هناك مليون حارس
يمكنك المجيء إن رغب قلبك
أولئك الذين يمشون بكبرياء يا شاكر
يمكنك أن تحني رؤوسهم بجهدك
5. हिंदी अनुवाद (Hindi Ghazal)
मेरे दिल की वीरान हवेلی को
तू आज भी महबوب बसा सकता है
मेरी रूठी मस्त जवानी की
अनमोल बहार को ला सकता है
चाहे लाख पहरे ही क्यों न हों
गर चाहे दिल तो आ सकता है
जो बने फिरتے हैं फख्र शाकिर
इन ग़ैरों का सर झुका सकता है
About the Author: Shakir Shuja Abadi is a renowned Saraiki poet.
Curated by: Albela Munda Official - Promoting Regional Literature Worldwide.
0 Comments