وفا، دعا اور محبت — ایک جامع ادبی و روحانی تجزیہ
تعارف
سرائیکی شاعری برصغیر کی ان زندہ اور سانس لیتی ہوئی روایات میں سے ہے جس میں محبت، وفا، صبر، دعا اور روحانی وابستگی کو نہایت سادگی مگر گہرے اثر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ ایک پورا تہذیبی شعور ہوتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ زیرِ نظر غزل بھی اسی روایت کی نمائندہ ہے، جس میں محبوب کی بےوفائی کے باوجود وفا پر قائم رہنے، دعا کو ہتھیار بنانے اور رب کی ذات کو گواہ ٹھہرانے کا تصور ملتا ہے۔
Albela Munda پلیٹ فارم کا مقصد بھی یہی ہے کہ سرائیکی زبان، اس کی شاعری اور اس کے فکری ورثے کو نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر متعارف کروایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس غزل کو مختلف زبانوں میں پیش کیا گیا تاکہ ہر زبان بولنے والا اس جذبے سے جُڑ سکے۔
سرائیکی غزل
پہلے شعر میں شاعر محبوب کو مکمل آزادی دیتا ہے کہ وہ وفا کرے یا نہ کرے، مگر خود اپنی وفا کو مشروط نہیں کرتا۔ یہاں "راہسی" کا لفظ مستقبل کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے، یعنی وفا وقتی نہیں بلکہ دائمی ہے۔
دوسرا شعر: دعا بطور سرمایہ
محبوب اگر غیروں کے درمیان خوش ہے تو شاعر اس پر شکوہ نہیں کرتا بلکہ دعا دیتا ہے۔ سرائیکی ثقافت میں دعا صرف مذہبی عمل نہیں بلکہ محبت کا اعلیٰ ترین اظہار ہے۔
تیسرا شعر: رب کی گواہی
یہاں شاعر اپنی محبت اور وفا کو اس قدر سچا سمجھتا ہے کہ رب کی ذات کو گواہ بناتا ہے۔ یہ تصور صوفیانہ رنگ لیے ہوئے ہے، جہاں عشق کو عبادت کے درجے تک لے جایا جاتا ہے۔
چوتھا شعر: محبت کی بقا
آخری شعر میں شاعر محبوب کو یقین دلاتا ہے کہ وہ بھلایا نہیں جائے گا۔ محبت دل میں بستی رہے گی، چاہے حالات کچھ بھی ہوں۔
اردو غزل: مفہوم اور ادبی جہت
اردو زبان میں یہی غزل ایک مختلف مگر مانوس ذائقہ رکھتی ہے۔ اردو قاری کے لیے وفا ایک اخلاقی قدر کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اردو تشریح میں الفاظ کی نرمی اور کلاسیکی روایت اس غزل کو غمِ محبت کی ایک شائستہ مثال بناتی ہے۔
اردو شاعری میں یکطرفہ محبت کو ہمیشہ عظمت دی گئی ہے، اور یہی روایت اس غزل میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
اردو غزل
हिंदी ग़ज़ल
سنڌي غزل
بلوچی غزل
Read this Saraiki ghazal in Persian and Hindi on Albela Munda:
0 Comments