Shakir Shujabadi Saraiki Ghazal Analysis | Love, Pain & Separation

وفا، دعا اور محبت — ایک جامع ادبی و روحانی تجزیہ

تعارف 

سرائیکی شاعری برصغیر کی ان زندہ اور سانس لیتی ہوئی روایات میں سے ہے جس میں محبت، وفا، صبر، دعا اور روحانی وابستگی کو نہایت سادگی مگر گہرے اثر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ ایک پورا تہذیبی شعور ہوتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ زیرِ نظر غزل بھی اسی روایت کی نمائندہ ہے، جس میں محبوب کی بےوفائی کے باوجود وفا پر قائم رہنے، دعا کو ہتھیار بنانے اور رب کی ذات کو گواہ ٹھہرانے کا تصور ملتا ہے۔

Albela Munda پلیٹ فارم کا مقصد بھی یہی ہے کہ سرائیکی زبان، اس کی شاعری اور اس کے فکری ورثے کو نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر متعارف کروایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس غزل کو مختلف زبانوں میں پیش کیا گیا تاکہ ہر زبان بولنے والا اس جذبے سے جُڑ سکے۔ 

 سرائیکی غزل

تو کر نہ کر اساڈے نال وفا
اساڈی تیڈے نال وفا راہسی

خوش وسدا رہ وچ غیراں دے
اساڈی ہر دم ڈھول دعا راہسی

ہوسی تیڈی تانگھ قبراں تئیں
اساڈی رب دی ذات گواہ راہسی

متاں سمجھیں تیکوں بھل ویساں

اساڈے دل وچ پیار وسدا راہس





سرائیکی اشعار کی تشریح اور مفہوم

پہلا شعر: وفا کا اٹل عہد

پہلے شعر میں شاعر محبوب کو مکمل آزادی دیتا ہے کہ وہ وفا کرے یا نہ کرے، مگر خود اپنی وفا کو مشروط نہیں کرتا۔ یہاں "راہسی" کا لفظ مستقبل کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے، یعنی وفا وقتی نہیں بلکہ دائمی ہے۔

دوسرا شعر: دعا بطور سرمایہ

محبوب اگر غیروں کے درمیان خوش ہے تو شاعر اس پر شکوہ نہیں کرتا بلکہ دعا دیتا ہے۔ سرائیکی ثقافت میں دعا صرف مذہبی عمل نہیں بلکہ محبت کا اعلیٰ ترین اظہار ہے۔

تیسرا شعر: رب کی گواہی

یہاں شاعر اپنی محبت اور وفا کو اس قدر سچا سمجھتا ہے کہ رب کی ذات کو گواہ بناتا ہے۔ یہ تصور صوفیانہ رنگ لیے ہوئے ہے، جہاں عشق کو عبادت کے درجے تک لے جایا جاتا ہے۔

چوتھا شعر: محبت کی بقا

آخری شعر میں شاعر محبوب کو یقین دلاتا ہے کہ وہ بھلایا نہیں جائے گا۔ محبت دل میں بستی رہے گی، چاہے حالات کچھ بھی ہوں۔


اردو غزل: مفہوم اور ادبی جہت

اردو زبان میں یہی غزل ایک مختلف مگر مانوس ذائقہ رکھتی ہے۔ اردو قاری کے لیے وفا ایک اخلاقی قدر کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اردو تشریح میں الفاظ کی نرمی اور کلاسیکی روایت اس غزل کو غمِ محبت کی ایک شائستہ مثال بناتی ہے۔

اردو شاعری میں یکطرفہ محبت کو ہمیشہ عظمت دی گئی ہے، اور یہی روایت اس غزل میں بھی دکھائی دیتی ہے۔

اردو غزل

تو کرے نہ کرے ہم سے وفا
ہماری وفا تجھ سے نبھتی رہے گی

تو خوش رہے غیر وں کی بستی میں
ہماری دعا ہر گھڑی تیرے ساتھ رہے گی

تجھے قبروں تک یاد آئے گی ہماری چاہ
ہماری گواہی رب کی ذات رہے گی

یہ گمان نہ کرنا کہ تجھے بھول جائیں گے
ہمارے دل میں محبت بستی رہے گی

🔷 Hindi Ghazal (Poetic)

हिंदी ग़ज़ल

तू करे न करे हमसे वफ़ा
हमारी वफ़ा तुझसे निभती रहेगी

तू गैरों की राहों में खुश रहे
हमारी दुआ हर पल तेरे संग रहेगी

तुझे क़ब्रों तक हमारी चाह सताएगी
हमारी गवाही रब की जात रहेगी

यह मत समझना कि तुझे भूल जाएँगे
हमारे दिल में मोहब्बत बसती रहेगी

🔷 Sindhi Ghazal

سنڌي غزل

تون ڀلي وفا نه ڪر اسان سان
اسان جي وفا توسان رهندي رهندي

تون غيرن جي راهن ۾ خوش رهين
اسان جي دعا هر پل توسان رهندي

تون قبري تائين اسان کي ياد ڪندين
اسان جي گواهي رب جي ذات رهندي

ايئن نه سمجهين ته وساري ڇڏينداسين
اسان جي دل ۾ محبت وسندي رهندي

🔷 Balochi Ghazal

بلوچی غزل

تو اگر وفا نکنی با ما
وفای ما با تو پایدار انت

تو در راه غیران خوش بمانی
دعای ما همیشه همراه انت

تو ما را تا قبر یاد کنی
گواه ما ذات خداوند انت

گمان مبر که فراموشت کنیم
محبت در دل ما ماندگار انت

Read this Saraiki ghazal in Persian and Hindi on Albela Munda:

Post a Comment

0 Comments