شاکر شجاع آبادی: ہر پھل کلی کملا ویسی (عالمی تراجم)
تحقیق و ترتیب: البیلا منڈا (Albela Munda)
مندرجات [چھپائیں]
ادبی تجزیہ و تشریح
ماہرانہ رائے (Expertise): یہ غزل شاکر شجاع آبادی کے کلام میں "فلسفہِ فنا" کی بہترین مثال ہے۔ شاعر کائنات کی ہر چیز کے ختم ہو جانے (نفی) کا تذکرہ کرتے ہوئے انسان کو زندگی کی بے ثباتی کا احساس دلاتا ہے۔
تکنیکی پہلو: اس غزل میں "ککھ نہ راہسی" (کچھ باقی نہ رہے گا) کی تکرار ایک ایسا اثر پیدا کرتی ہے جو قاری کو گہری سوچ میں ڈال دیتا ہے۔ یہ کلام محض شاعری نہیں بلکہ ایک صوفیانہ انتباہ ہے۔
ہر پھل کلی کملا ویسی
گلزار دا ککھ نہ راہسی
ڈھہہ پیار دا تاج محل ویسی
گھر بار دا ککھ نہ راہسی
جئیں کئتے دید حیاتی ہئی
بیمار دا ککھ نہ راہسی
توں "شاکر" پار لڈوائی ویندیں
اروار دا ککھ نہ راہسی
ہر پھول اور کلی مرجھا جائے گی
اس گلشن کا کچھ باقی نہ رہے گا
محبت کا تاج محل بھی گر جائے گا
گھر بار کا کچھ باقی نہ رہے گا
ہر پھل کلی کُملا جائے گی
گلشن دا ککھ نہیں رہنا
هر گل ۽ ڪلي ڪومائجي ويندي
گلزار جو ڪجھ به نه رهندو
ستذبل كل زهرة وبرعم
لن يبقى شيء من الحديقة
हर फूल और कली मुरझा जाएगी
गुलज़ार کا کچھ باقی نہ رہے گا
Every flower and bud will wither away
Nothing will remain of the garden
Even the Taj Mahal of love will fall
Nothing will remain of the household
每一朵花和花蕾都会枯萎
花园里什么都不会留下
Каждый цветок и бутон завянут
От сада ничего نہیں رہے گا
0 Comments