میکوں روندا ڈیکھ آہدا چا کا مکمل متن اور تشریح
شاکر شجاع آبادی کا شمار سیرائیکی زبان کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری محبت، درد اور سچائی سے لبریز ہے۔ زیر نظر غزل "میکوں روندا ڈیکھ آہدا چا" سادہ الفاظ میں گہرے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔
غزل کا مکمل متن:
غزل کی تشریح:
شاکر شجاع آبادی اپنی اس غزل کے مصرے "میکوں روندا ڈیکھ کے آہدا چا" میں اپنے دکھ ، درد، اور اپنے محبوب کی بے رخی کا شکوہ کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جدائی اور بے رخی کے غم نے اسے نڈھال کر دیا ہے۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ لا علاج مرض میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ یہ غم سہ نہیں پائے گا اور مر جائے گا۔ مگر ساتھ ہی امید کرتا ہے کہ محبوب اسے تسلی دے گا اور کہے گا کہ "شاکر اب نہ رو، تیرا دکھ دور ہو جائے گا۔"
نسئی پوچھیا کیا ہی کیوں روندیں۔ یا ایڈا زاروقطار نہ رو:
شاعر کہتا ہے کہ محبوب نے میرے رونے پر بھی کوئی توجہ نہ دی، نہ پوچھا کہ میں کیوں رو رہا ہوں۔ اس نے میرے حال کی پرواہ نہ کی کہ میں اتنا زار و قطار کیوں رو رہا ہوں۔
بہہ نال تسلی ڈیندا چا ۔ تیکوں گل نال لیندا نہ رو:
اگر وہ میرے قریب آ کر بیٹھ جاتا، تسلی دیتا، میرے دکھ کو سنتا تو شاید میرا دل ہلکا ہو جاتا۔ مگر اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔
بھانویں اتلے دل آہدا چا ۔ ہاں تیڈا شاکر نہ رو:
شاعر کہتا ہے کہ محبوب اگر جھوٹے ہی سہی، مگر میرے دل کو تسلی دے دیتا، میرا بھرم رکھ لیتا تو بھی میرے دل کو سکون مل جاتا۔
شاکر شجاع آبادی کی شاعری کی اہمیت:
شاکر شجاع آبادی کی شاعری عام انسان کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔ ان کا انداز سادہ، پر اثر اور دل کو چھو لینے والا ہوتا ہے۔
نتیجہ:
یہ غزل ایک دلگداز جذباتی تجربہ ہے، جس میں شاکر شجاع آبادی کا درد، احساس اور اظہار اپنی بلند ترین سطح پر نظر آتا ہے۔ سیرائیکی ادب میں یہ غزل ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
0 Comments