شاکر شجاع آبادی کی درد بھری شاعری| نہ جسم تیڈا نہ جان تیڈی اے

 

نہ جسم تیڈا نہ جان تیڈی اے

نہ جسم تیڈا نہ جان تیڈی   اے ترکہ رب رحمان دا اے

اوندے حکم توں بغیر بے وس ہیں  اے فیصلہ پڑھ پاک قرآن دا اے

میڈا جسم میڈی مرضی اے اے وہم گمان انسان دا ہے۔

تیڈی روح ہے شاکر مالک دی تیڈا ڈھانچہ قبرستان دا ہے




شاعر: شاکر شجاع آبادی

موضوع: انسان کی حقیقت، ربّ کی حاکمیت، اور دنیا کی بے ثباتی

 نہ جسم تیڑا نہ جان تیڈی اے، اے زکر رب رحمان دا اے

 

:تشریح

نہ جسم تیڈا نہ جان تیڈی   اے ترکہ رب رحمان دا اے 

یہ مصرع ہمیں حقیقتِ انسانی سے آشنا کرتا ہے۔ شاعر شاکر شجاع آبادی ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسان کا جسم اور جان اُس کی اپنی ملکیت نہیں بلکہ ربِ رحمان کی عطا کردہ امانتیں ہیں۔ انسان جتنا بھی زور لگا لے، وہ اپنے جسم کے ایک بال پر بھی اختیار نہیں رکھتا۔ یہ صرف اللہ کا کرم ہے کہ وہ سانس لے رہا ہے، چل پھر رہا ہے، سوچ رہا ہے۔ اس شعر کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ انسان غرور نہ کرے کیونکہ نہ وہ جسم کا مالک ہے اور نہ ہی جان کا، بلکہ یہ سب کچھ صرف اللہ کے حکم سے ہے، اور اسی کا ذکر اور نشان ہے۔

 

اوندے حکم توں بغیر بے وس ہیں، اے فیصلہ پڑہ پاک قرآن دا اے


شاعر اس مصرعے میں انسانی کمزوری اور اللہ کی طاقت کا گہرا احساس دلاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان کتنا بھی طاقتور یا خودمختار نظر آئے، درحقیقت وہ اللہ کے حکم کے بغیر ایک پل بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ انسان کا سونا، جاگنا، ہنسنا، رونا، حتیٰ کہ سانس لینا بھی اللہ کے حکم سے مشروط ہے۔ جب اللہ چاہے، وہ طاقتور کو کمزور کر دے اور کمزور کو بلند مقام دے دے۔ یہ بات صرف شاعر کا دعویٰ نہیں بلکہ قرآن پاک میں بارہا بیان کی گئی ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اُس کی اجازت کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا۔ شاعر قاری کو قرآن کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دے رہا ہے تاکہ وہ خود دیکھ لے کہ اللہ کی قدرت اور بندے کی بے بسی کتنی واضح ہے۔

 

میڈا جسم میڈی مرضی اے، اے وہم گمان انسان دا اے


اس مصرع میں شاکر شجاع آبادی مغربی دنیا اور جدید دور کے اس نعرے پر گہرا طنز کرتے ہیں جس میں کہا جاتا ہے "میرا جسم، میری مرضی"۔ شاعر بڑے سادہ مگر پراثر انداز میں سمجھاتے ہیں کہ یہ محض انسان کا وہم اور گمان ہے۔ حقیقت میں نہ جسم اس کا ہے اور نہ ہی مرضی اُس کی۔ انسان کا جسم اُس کے اختیار میں تب ہوتا جب وہ خود اپنی پیدائش، رنگ، قد، یا موت کا وقت طے کر سکتا۔ لیکن ایسا ممکن نہیں۔ انسان کا جسم اللہ کی عطا ہے، ایک امانت ہے، جسے اُس کے احکام کے مطابق استعمال کرنا فرض ہے۔ جب ہم اس امانت کو اپنی مرضی سے چلانے لگتے ہیں تو یہ اللہ کے دئیے گئے نظام کی خلاف ورزی بن جاتی ہے۔ شاعر کا پیغام بہت واضح ہے کہ انسان اپنی حیثیت سمجھے، غرور چھوڑے، اور اللہ کے حکم کے آگے جھک جائے، کیونکہ جو سمجھتا ہے "میرا جسم میری مرضی"، وہ صرف گمراہی کے دھوکے میں ہے۔

 

✍️ تیڈی روح اے "شاکر" مالک دی، تیڑا ڈھانچہ قبرستان دا اے

اس مصرع میں شاکر شجاع آبادی ہمیں ایک کڑوی لیکن حقیقت پر مبنی سچائی سے روشناس کراتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان کی روح اُس خالقِ حقیقی، یعنی اللہ کی ملکیت ہے۔ یہ روح اللہ نے ایک وقت کے لیے ہمارے جسم میں بطور امانت رکھی ہے، جو مقررہ وقت پر واپس چلی جائے گی۔ جہاں تک جسم کی بات ہے، جس پر ہم فخر کرتے ہیں، جسے سنوارتے ہیں، دکھاتے ہیں، اس کا انجام صرف قبر ہے۔ شاعر یاد دلاتا ہے کہ یہ جسم، جسے ہم اپنی طاقت اور خوبصورتی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، آخرکار مٹی کا ڈھیر بن کر قبر میں دفن ہو جائے گا۔

یہ مصرع محض ایک شاعرانہ بیان نہیں بلکہ موت کی ایک بے رحم حقیقت کا اظہار ہے، جو ہمیں عاجزی، تقویٰ اور اللہ سے تعلق جوڑنے کا سبق دیتا ہے۔ "شاکر" ہمیں کہہ رہا ہے کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم نہ جسم کے مالک ہیں اور نہ روح کے، ہم محض اللہ کے بندے ہیں، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

 


Post a Comment

0 Comments