شاکر شجاع آبادی: میں ڈھول کوں آکھیا (عالمی تراجم اور ادبی مطالعہ)
تحقیق و تدوین: البیلا منڈا (Albela Munda)
فہرستِ مضامین [چھپائیں]
ادبی تشریح اور تجزیہ
ماہرانہ رائے (Expertise): یہ غزل شاکر شجاع آبادی کے کلام میں "عجز اور انا" کی کشمکش کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر اپنے محبوب (ڈھول) سے صلح کی التجا کرتا ہے لیکن جواب میں اسے محبوب کی بے نیازی اور تلخی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تکنیکی پہلو: اس غزل میں "رنگ" اور "بے رنگ" کے الفاظ کا استعمال زندگی اور اداسی کے درمیان فرق کو واضح کرنے کے لیے بہترین طریقے سے کیا گیا ہے۔ آخری شعر (مقطع) انسانی انا کی اس انتہا کو دکھاتا ہے جہاں ایک طرف شدتِ محبت ہے اور دوسری طرف محبوب کی بیزاری۔
میں ڈھول کوں آکھیا جند مانڑیں
کر صلح جیویں جنگ نہ کر
شالا بخت اقبال کوں رنگ لگنئ
میڈے پیار کوں چن بے رنگ نہ کر
میڈی وسدی رسدی زندگی کوں
ڈکھ نال توں چور چرنگ نہ کر
سڑ بھج کے بولیا چن "شاکر"
ٹردا تھئی میکوں تنگ نہ کر
میں نے محبوب سے کہا کہ زندگی کا لطف اٹھاؤ
صلح کر لو، یوں جنگ نہ کرو
خدا کرے تمہارے بخت اور اقبال کو رنگ لگیں
میرے پیار کو اے چاند بے رنگ نہ کرو
میری ہنستی بستی زندگی کو
دکھ کے ساتھ تم چور چور نہ کرو
جل بھن کر بولا وہ چاند "شاکر"
اپنے راستے پر چلو، مجھے تنگ نہ کرو
میں ماہی نوں آکھیا جند مانڑیں
صلح کر لے، انج جنگ نہ کر
ساڈی ہسدی وسدی زندگی نوں
دکھاں نال توں تنگ نہ کر
مون محبوب کي چيو ته زندگي ماڻي
صلح ڪر، ائين جنگ نه ڪر
قلتُ للحبيبِ تَمَتّع بالحياة
تَصَالَح مَعي ولا تَصنعِ الحَرب
मैंने महबूब से कहा कि ज़िंदगी का आनंद लो
सुलह कर लो, यूँ जंग न करो
I told my beloved to cherish this life
Make peace, do not wage this strife
Do not turn my vibrant, joyful life
Into pieces with pain and knife
Burning with anger, he replied "Shakir"
Keep walking your path, don't trouble me here
我告诉爱人要珍惜生命
我们要和解,不要战争
0 Comments